مسئلہ:
عرصہٴ دراز سے عام لوگوں میں وقتاً فوقتاً ایک پمفلٹ (Pamphlet) اس مضمون کا تقسیم کیا جاتا ہے کہ مدینہ شریف سے شیخ احمد نے وصیت نامہ بھیجا ہے کہ میں اپنے مکان میں قرآن شریف پڑھ رہا تھا، اچانک مجھے نیند آگئی، اور میں دیکھتا ہوں کہ محمد ﷺ تشریف لائے، اور فرمایا اس ہفتے اتنے ہزار آدمی مرگئے جس میں کوئی ایمان والا نہیں تھا، اور بہت برا وقت آنے والا ہے وغیرہ، اور جو شخص اس وصیت نامہ کو پڑھ کر اس کی نقل دوسروں تک پہنچائیگا، تو قیامت کے دن میں اس کی حفاظت کروں گا، جو غریب چھپوا کر تقسیم کرے گا وہ مالدار ہوجائیگا، ایک آدمی نے اسے جھوٹا سمجھا تو اس کا انتقال ہوگیا، ایک شخص نے چھپوانے میں لاپرواہی کی تو اس کی بیوی مرگئی، اور پانچ لوگوں نے ملکر ۱۵۰ /پرچے بانٹے تو ان کو پانچ لاکھ کی لاٹری لگ گئی وغیرہ۔
حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا وصیت نامہ بہت دفع شائع ہوچکا ہے، ہمیشہ اسی نام ولقب سے شائع ہوتا ہے، اول تو تعجب یہ ہے کہ ایک شخص اتنی بڑی عمر پائے، دوسرے یہ تعجب ہے کہ ایک شخص کے سوا اور کسی خادم کو یا اور ملکوں کے بزرگوں اور ولیوں کو یہ دولتِ زیارت اور ہم کلامی نصیب نہ ہو، تیسرے یہ کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو خود مدینہ میں اس کی زیادہ شہرت ہونی چاہیے تھی، حالانکہ وہاں آنے جانے والوں یا خطوط سے ان امور کا نام ونشان بھی معلوم نہیں ہوتا، پھر محض اس طرح بلا سند کوئی مضمون قابل اعتبار نہیں ہوسکتا، ورنہ جو جس کے دل میں آوے مشہور کردیا کرے، شرع میں حکم یہ ہے کہ جو بات ہو خوب تحقیق کے بعد اس کو معتبر سمجھو ۔(۱)
علاوہ اس کے اس میں بعض مضامین ایسے ہیں جو شرع وعقل کے خلاف ہیں، مثلاً:
۱-اتنے ہزار مسلمان کلمہ گو مرے، اور ان میں صرف سترہ آدمی مسلمان ہوں، اول تو خدا کی رحمت غالب ہے اس کے غضب پر(۲)، دوسرے ہم خود دیکھتے ہیں کہ زیادہ مسلمان تو بہ کرکے، کلمہ پڑھتے ہوئے مرتے ہیں، جو علامت خاتمہ بالخیر کی ہے، پھر اس مضمون کی گنجائش کہاں ۔
۲-اس پر چے کو چھپواکر تقسیم کرنے پر غنیٰ ومالداری کا حاصل ہونا، اور اس کو جھوٹا سمجھنے پر کسی کی موت واقع ہونا، یہ بھی خلاف عقیدہ بات ہے، کیوں کہ امیری وغریبی موت وحیات ذاتِ باری تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔(۳)
۳-اس پرچے کو چھپواکر تقسیم کرنے سے لاٹری کا لگ جانا،اور جن لوگوں کی لاٹری لگ گئی ان میں سے ایک کا مسجد بنانے کی بات سوچنا،دونوں خلافِ شرع ہیں،کیوں کہ لاٹری شرعاً قمار وجوا پر مشتمل ہونے کی وجہ سےحرام ہے(۴)،اسی طرح حرام مال سے اللہ کے گھر کی تعمیر بھی حرام ہے۔(۵)
لہٰذا اس طرح کے پمفلٹ کے مضامین پر اعتماد واعتقاد نہ رکھا جائے، اور نہ ان کو شائع کیا جائے، اس لیے کہ مومن کامل کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ نفع ونقصان، خیروشر، امیری وغریبی ،خوشی وغمی جیسے تمام امور ذاتِ باری تعالیٰ ہی کے قبضہٴ قدرت میں ہیں۔(۶)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین آمنوا إن جائکم فاسق بنبأ فتبینوا أن تصیبوا قوماً بجهالة فتصبحوا علی ما فعلتم نٰدمین﴾۔ (سورة الحجرات :۶)
ما فی ” أحکام القرآن لظفر أحمد التھانوی “ : مقتضی الآیة التثبت فی خبر الفاسق ، والنهی عن الإقدام علی قبوله والعمل به ، إلا التبین والعلم بصحة مخبره ، وذلک لأن قراء ة هذه الآیة علی وجهین : ﴿فتثبتوا﴾ من التثبت ﴿فتبینوا﴾ من التبیّن ، وکلتاهما یقتضی النهی عن قبول خبره إلا بعد العلم ۔ (۲۵۵/۴)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ورحمتي وسعت کل شيء﴾ ۔ (سورة الأعراف :۱۵۶)
ما فی ” صحیح البخاری “ : عن أبی هریرة قال : قال رسول الله ﷺ : ” لما خلق الله الخلق کتب فی کتابه هو یکتب علی نفسه وهو وضع عنده علی العرش إن رحمتی تغلب غضبی “ ۔(۱۱۰۱/۲ ، بیروت)
(۳) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿قل لن یصیبنا إلا ما کتب الله لنا هو مولٰنا﴾ ۔ (سورة التوبة :۵۱)
ما فی ” روح المعانی “ : أی لن یصیبنا إلا ما خط الله لأجلنا فی اللوح ولا یتغیر بموافقتکم ومخالفتکم ، فتدل الآیة علی أن الحوادث کلها بقضاء الله تعالی۔ (۱۶۶/۶)
ما فی ” صحیح البخاري “ : عن أبی هریرة عن النبی ﷺ قال : ” لا عدوی ولا طیرة ولا هامة ولا صفر “ ۔ (۸۵۷/۲)
(۴) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوه﴾ ۔ (سورة المائدة :۹۱)
ما فی ” الشامیة “ : قال الشامي رحمه الله تعالی : لأن القمار من القمر الذی یزداد تارة وینقص أخری ، وسمی القمار قمارًا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه وهو حرام بالنص ۔(۵۷۷/۹ ، ۵۷۸ ، کتاب الحظر والإباحة ، باب الاستبراء ، فصل فی البیع)
(۵) ما فی ” الشامیة “ : قال تاج الشریعة : أما لو أنفق فی ذلک مالاً خبیثاً ومالا سببه الخبیث والطیب فیکره ، لأن الله تعالی لا یقبل إلا الطیب فیکره تلویث بیته بما لا یقبله ۔ شرنبلالیة ۔ (۳۷۳/۲ ، کتاب الصلوة ، مطلب کلمة لا بأس الخ)
(۶) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وإن تصبهم حسنة یقولوا هذه من عند الله وإن تصبهم سیئة یقولوا هذه من عندک ، قل کل من عند الله ، فما لهولاء القوم لا یکادون یفقهون حدیثاً﴾ ۔ (سورة النساء : ۷۸)
ما فی ” عقیدة الطحاوی “ : الإیمان هو الإیمان بالله وملائکته وکتبه ورسله والیوم الآخر والبعث بعد الموت ، والقدر خیره وشره وحلوه ومره من الله تعالی ونحن موٴمنون بذلک کله ۔ (ص/ ۹۵)
(امداد الفتاوی :۵۵۵/۴)
