سفر میں امیر کا انتخاب کیسا ہونا چاہیے؟

مسئلہ:

جب سفر کا ارادہ ہو تو اپنے میں سے کسی با اخلاق اور علم وعقل میں بڑھے ہوئے شخص کو امیر بنالے(۱)، امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”لوگوں کی آراء، منزلوں، راستوں اور سفر کی مصلحتوں میں مختلف ہوتی ہیں، کسی کو امیر بنائے بغیر نظام سفر بر قرار نہیں رہ سکتا ہے، اِکائی میں نظام ہے اور کثرت میں فساد ہے“(۲)، اس لئے کسی ایک کو امیر بنالیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن أبی سعید الخدری أن رسول الله ﷺ قال : ” إذا خرج ثلاثة فی سفر فلیؤمروا أحدهم “ ۔

(ص/۳۵۱ ، کتاب الجهاد ، فی القوم یسافرون یؤمرون أحدهم)

ما فی ” بذل ا لمجهود “ : فلیجعلوا أحدهم أمیراً علیهم لیسهل قطع النزاع والإختلاف علیهم ، والأمر للاستحباب ۔ (۱۹۳/۹)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : یستحب أن یؤمر الرفقة علی أنفسهم أفضلهم وأجودهم رأیاً ، ویطیعونه لحدیث أبی سعید وأبی هریرة قالا : قال رسول الله ﷺ : ” إذا خرج ثلاثة فی سفر فلیؤمروا أحدهم “ ۔ (۴۳/۲۵)

(۲) ما فی ” إحیاء علوم الدین للغزالی “ : إنما یحتاج إلی الأمیر ، لأن الآراء تختلف فی تعیین المنازل والطرق ومصالح السفر ولا نظام إلا فی الوحدة ولا فساد إلا فی الکثرة ، وإنما انتظم أمر العالم ، لأن مدبر الکل واحد ﴿لو کان فیهما آلهة إلا الله لفسدتا﴾ ومهما کان المدبر واحدًا انتظم أمر التدبیر ، وإذا کثر المدبرون فسدت الأمور فی الحضر والسفر ۔ (۲۵۲/۲ ، آداب السفر)

اوپر تک سکرول کریں۔