مسئلہ:
جب مسافر اپنے سفر سے لوٹ رہا ہو، تو اپنے مقام سے قریب پہونچنے پر گھر والوں کو اپنی آمد سے مطلع کرنا اس کیلئے مستحب ہے، تاکہ گھر والوں کے حق میں اس کی آمد اچانک نہ ہو ، آپ ﷺ نے آدمی کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آئے، موجودہ زمانے میں مواصلاتی نظام نے کافی ترقی کرلی ہے، اس لئے موبائل فون وغیرہ کے ذریعہ سے اپنے آمد کی اطلاع دے کر اس استحباب پر عمل کرنا بڑا آسان ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” صحیح البخاری “ : عن جابر بن عبد الله قال : ” نهی النبی ﷺ أن یطرق أهله لیلا “ ۔(۲۴۲/۱ ، کتاب العمرة)
ما فی ” عمدة القاري “ : إن القادم من سفر لا یطرق أهله إذا بلغ البلد الذي یقصد دخولها ، والحکمة فیه هی کراهة أن یهجم منها علی ما یقبح عنده اطلاعه علیه ، فیکون سبباً إلی بغضها وفراقها ، فنبه النبی علی ما تدوم به الألفة بینهم وتتأکد المحبة ، فینبغی لمن أراد الأخذ بأدب أن یجتنب مباشرة أهله فی حال البذاذة وغیر النظافة ، وأن لا یتعرض لرؤیة عورة یکرهها منها ۔(۱۸۹/۱۰)
