کیا نماز کی نیت زبان سے کرنا درست ہے؟

مسئلہ:

نماز کی نیت الفاظ میں ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اور بدعت ممنوعہ بھی نہیں ہے، ادا کرلے گا تو گنہگار نہیں ہوگا، نہیں ادا کرے گا تو نماز فاسد نہیں ہوگی، کیوں کہ نیت مراد قلبی کا نام ہے، اوروہ ادائے نماز کیلئے کافی ہے(۱)، لوگوں کے قلوب پر افکار کا ہجوم رہتا ہے، اور وہ پوری یکسوئی کے ساتھ قلب کو حاضر نہیں کرپاتے ہیں، اس لیے زبان سے بھی الفاظ ادا کرائے جاتے ہیں ، تاکہ حضور قلب میں جس قدر کمی ہے، وہ الفاظ کے ذریعہ سے پوری ہوجائے، اگر کوئی شخص احضار قلب پر قادر نہ ہو، تو اس کیلئے الفاظ کا ادا کرلینا بھی کافی ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : النیة هی الإرادة لا مطلق العلم ، والمعتبر فیها عمل القلب اللازم للإرادة ، فلا عبرة للذکر باللسان إن خالف القلب لأنه کلام لا نیة ، وهو أی عمل القلب أن یعلم عند الإرادة بداهة بلا تأمل أی صلاة یصلي ۔ (۸۳/۲، کتاب الصلاة ، بحث النیة)

ما فی ” حلبی کبیر “ : ولو نوی بالقلب ولم یتکلم باللسان جاز بلا خلاف بین الأئمة، لأن النیة عمل القلب لا عمل اللسان ۔ (ص/۲۵۴ ، الهدایة :۹۶/۱ ، البحر الرائق:۴۸۳/۱)

(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : والتلفظ عند الإرادة بها مستحب هو المختار۔ (۸۳/۲)

ما فی ” حلبی کبیر “ : والمستحب فی النیة أن ینوی بالقلب ویتکلم باللسان بأن یقول: أصلی صلاة کذا ، وذلک لإجتماع عزیمته یعنی أن الإنسان قد یغلب علیه تفرق الخاطر فإذا ذکر بلسانه کان عوناً علی تجمعه ۔ هذا هو المختار ۔ (ص/۲۵۴ ، کذا في الهدایة :۹۶/۱ ، البحر الرائق :۴۸۳/۱)

(فتاوی محمودیه:۵۰۸/۵، فتاوی دار العلوم:۱۴۷/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔