تشہد میں کیفیتِ عقد

مسئلہ:

تشہد میں کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرنا بالاتفاق مسنون ہے(۱)، اور اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ابتداء میں انگلیاں سیدھی رکھی جائیں، جب کلمہٴ شہادت پر پہنچے تو چھنگلی اور اس کے ساتھ کی انگلی کو بند کرلے، اور درمیان کی انگلی اور انگوٹھے کے سروں کو ملاکر حلقہ بنالے، پھر ”لا “ پر شہادت کی انگلی اٹھائے، اور ”إلا اللہ “پر قدرے جھکائے(۲)،اس موقع پر عام لوگ انگلی بالکل گرادیتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ اشارہ کو ختم کرکے انگلی کا رخ نیچے کو کردیا جائے، اور یہ ہیئت اخیر تک باقی رہے، سب انگلیاں کھول کر نہ پھیلائی جائیں۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” السعایة “ : قلت : لکن لما اتفقت الروایات عن أصحابنا جمیعًا فی کونها سنة ، وکذا عن الکوفیین والمدنیین وکثرت الأخبار والروایات والآثار کان العمل به أولی ۔ (۲۱۸/۲)

(۲) ما فی ” مشکوٰة المصابیح “ : عن ابن عمر قال : ” کان رسول الله ﷺ إذا قعد فی التشهد وضع یده الیسری علی رکبتیه الیسری ، ووضع یده الیمنی علی رکبتیه الیمنی ، وعقد ثلاثة وخمسین وأشار بالسبابة “ ۔ رواه مسلم ۔ (ص/۸۴ ، کتاب الصلاة ، باب التشهد)

ما فی ” الشامیة “ : وصفتها أن یحلق من یده الیمنی عند الشهادة الإبهام والوسطی ، ویقبض البنصر والخنصر ویشیر بالمسبحة۔

(۱۹۲/۲، کتاب الصلاة ، مطلب مهم فی عقد الأصابع عند التشهد)

(۳) ما فی ” السعایة “ : الوجه السابع فی بقاء العقد والتحلیق وعدم بقائه ، المختار هو الإبقاء اه۔ کما ذکرناه ۔ والصحیح المختار عند جمهور أصحابنا أن یضع کفیه علی فخذیه ثم عند وصوله إلی کلمة التوحید یعقد الخنصر والبنصر ویحلق الوسطی والإبهام ویشیر بالمسبحة رافعًا لها عند النفی واضعًا لها عند الإثبات ثم یستمر علی ذلک لأنه ثبت العقد عند ذلک بلا خلاف ولم یوجد أمر بتغییره ، فالأصل بقاء الشيء علی ما هو علیه واستصحابه إلی آخر أمره ۔(۲۲۱/۲ ، باب صفة الصلاة)

ما فی ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الأصل بقاء ما کان علی ما کان ۔ (۳۵۶/۱)

(أحسن الفتاوی :۳۰/۳، امداد الفتاوی :۱۹۲/۱، فتاوی محمودیه :۶۳۵/۵، فتاوی رشیدیه :ص/۳۱۲، خیر الفتاوی :۲۶۱/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔