مغرب کی دو چھوٹی رکعتوں کوادا کرنے کا طریقہ

مسئلہ:

اگر کوئی شخص نمازِ مغرب کی آخری رکعت میں شریک ہو،یعنی اس کو امام کے ساتھ صرف ایک رکعت ہی ملی، اور دو رکعتیں چھوٹ گئیں ہوں، تو چھوٹی ہوئی رکعتوں کو پورا کرنے کے دو طریقے ہیں:

پہلا طریقہ یہ ہے کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت ادا کرکے قعدہٴ اولیٰ کرے، اب یہ مسبوق کی دو رکعتیں ہوں گی، پھر قعدہٴ اخیرہ کے ساتھ تیسری رکعت پوری کرلے، اور یہی صورت بہتر اور اَولیٰ ہے ۔اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی دو رکعتیں قعدہٴ اخیرہ کے ساتھ پڑھ لے، دوسری رکعت پر قعدہٴ اولیٰ نہ کرے، اس سے بھی نماز درست ہوجائے گی اعادہ کی ضرورت نہیں، نیز اس صورت میں استحساناً سجدہٴ سہو بھی لازم نہیں ہوگا ۔

واضح رہے کہ مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی دونوں رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” مجمع الزوائد “ : وعن ابن مسعود أن جندباً ومسروقاً أدرکا رکعة یعنی من صلاة المغرب ، فقرأ جندب ، ولم یقرأ مسروق خلف الإمام ، فلما سلم الإمام قاما یقضیان، فجلس مسروق فی الثانیة والثالثة ، وقام جندب فی الثانیة ولم یجلس ، فلما انصرف تذاکرا ذلک ، فأتیا ابن مسعود فقال : ” کل قد أصاب ، أو قال : کل قد أحسن ، وأصنع کما یصنع مسروق “ ۔(۱۸۲/۲، باب فیما یدرک مع الإمام وما فاته)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (عکس المسبوق) أی فی الفروع الأربعة المذکورة ، فإنه إذا قضی ما فاته یقرأ ۔(۳۴۵/۲ ، باب الإمامة ، قبیل باب الاستخلاف)

ما فی ” حلبی کبیر “ : لو أدرک مع الإمام رکعة من المغرب فإنه یقرأ فی الرکعتین الفاتحة والسورة ویقعد فی أولهما، لأنها ثنائیة ولو لم یقعد جاز ۔

(ص/۴۶۸، فصل فی سجود السهو)

(فتاوی رحیمیه:۱۵۲/۵)

 

اوپر تک سکرول کریں۔