بارش میں راستوں اور سڑکوں کا پانی اور کیچڑ

مسئلہ :

بارش میں سڑکوں اورراستوں پر جو کیچڑ یاپانی موجودہوتاہے ،وہ عموماً ناپاک نہیں ہوتا، اس لیے اگر وہ بدن یاکپڑے وغیرہ پر لگ جائے تو بدن یاکپڑا ناپاک نہیں ہوگا، ہاں اگر اس کا ناپاک ہونا غالب ہو ،مگر ناپاکی کاکوئی اثر دکھائی نہ دے ،اور اس طرح کاپانی یاکیچڑ بلاقصد وارادہ بدن یاکپڑے پرلگ جائے ،اوروہ شخص ایسا ہو کہ اس کوعام طور پربازار آنا جانا پڑتا ہو،اور پانی وکیچڑ سے بچنا بھی مشکل ہو، تواس کی نمازبدن یاکپڑے کودھوئے بغیر بھی صحیح ہوگی، اوراگر وہ ایسانہیں توبدن اورکپڑے کودھوناضروری ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وما جعل علیکم في الدین من حرج﴾ ۔ (سورة الحج : ۷۸)

ما في ” الشامیة “ : وفي الفیض : طین الشوارع عفو ، وإن ملأ الثوب للضرورة ولومختلطا بالعذرات وتجوز الصلاة معه ، والحاصل أن الذي ینبغي أنه حیث کان العفو للضرورة وعدم إمکان الاحتراز أن یقال بالعفو وإن غلبت النجاسة ما لم یر عینها ، لو أصابه بلا قصد وکان ممن یذهب ویجییٴ ، وإلا فلا ضرورة ۔

(۵۳۰/۱، ۵۳۱ ، کتاب الطهارة ، باب الأنجاس ، مطلب في العفو عن طین الشارع ، الفتاوی العالمکیریة المعروف بالفتاوی الهندیة : ۱۷/۱، کتاب الطهارة ، الباب الثالث في المیاه)

ما في ” قواعد الفقه “ : ” الضرر یزال “ ۔ (ص/۸۸ ، رقم القاعدة : ۱۶۹)

 

اوپر تک سکرول کریں۔