پانچ بیٹوں اور چھ بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۴۱)

سوال:

ہمارے والد کی جائداد کی رقم دس لاکھ روپے ہیں،اور ہم سب پانچ بھائی اور چھ بہنیں ہیں، تو اس رقم کو اسلامی شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے؟ جب کہ والد اور والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے، اور اللہ کے فضل وکرم سے ان پر کسی کا قرض بھی نہیں ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

بشرط صحت سوال وعدمِ موانعِ اِرث،سوال میں مذکور مرحوم کے پس ماندگان میں پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں، مرحوم کا کل ترکہ دس لاکھ(۱۰۰۰۰۰۰) روپے ہیں، لہٰذا ۱۶/ حصوں میں تقسیم ہوکر پانچ بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو ایک لاکھ پچیس ہزار(۱۲۵۰۰۰) روپے، اور چھ بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو باسٹھ ہزار پانچ سو (۶۲۵۰۰)روپے ازروئے شرع ملیں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔(سورة النساء : ۱۱)

ما في ” السراجي في المیراث “ : ومع الإبن للذکر مثل حظ الأنثیین وهو یعصبهن۔ (ص/۱۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۱۰ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۳/۱۰ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔