شوہر ،والدہ، تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۵۰)

سوال:

۱-ایک صاحب (جن کا نام محمد عمر عبد اللہ ہے) کا انتقال ہوا، اور ان کے پس ماندگان میں بوقتِ انتقال ایک بیوی مسمات ”سکینہ بی “ اور پانچ لڑکے (محمد علی ، محمد امین، محمد یوسف، محمد بشیر، عبد القادر) اور دو لڑکیاں(اُلفت بی، زیب النساء) حیات تھیں۔

۲-مرحوم محمد عمر عبد اللہ کے پانچ سال بعد ان کی لڑکی ”اُلفت بی “کا انتقال ہوا، ان کے پس ماندگان میں ان کے شوہر عبد الحمید، تین لڑکے (مسعود، الطاف، نعیم) اور ایک لڑکی (صفیہ) اور والدہ سکینہ بی حیات تھیں۔

۳-مرحومہ ”اُلفت بی“ کے انتقال کے تقریباً چار سال بعد زوجہٴ عمر عبد اللہ(سکینہ بی) کا انتقال ہوا، ان کے پس ماندگان میں کل پانچ لڑکے (محمد علی ، محمد امین، محمد یوسف، محمد بشیر، عبد القادر) اور ایک لڑکی (زیب النساء) حیات تھیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں تقسیمِ وراثت کی کیا صورت ہوگی ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-مرحوم محمد عمر عبد اللہ کی کل جائداد چھیانوے (۹۶) حصوں میں تقسیم ہوکر، زوجہ مسمات سکینہ بی کو بارہ حصے(۱)، پانچ لڑکوں میں سے ہر ایک لڑکے کو چودہ حصے،اور دونوں لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی کو سات سات حصے از روئے شرع ملیں گے۔(۲)

۲-مرحومہ اُلفت بی کی کل جائداد بارہ حصوں میں تقسیم ہوکر، شوہر عبد الحمید کو تین حصے(۳)، اور ماں سکینہ بی کو دو حصے(۴)، تین لڑکوں میں سے ہر ایک کو دو دو حصے ،اور لڑکی کو ایک حصہ از روئے شرع ملے گا۔(۵)

۳-مرحومہ سکینہ بی کی کل جائداد گیارہ حصوں میں تقسیم ہوکر، پانچ لڑکوں میں سے ہر ایک کو دو دوحصے اور لڑکی کو ایک حصہ ملے گا۔(۶)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَُةٍٍ تُوْصُوْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَََلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَمْ یَکَنْ لَّهنَّ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَهنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : والربع للزوج مع أحدهما أي الولد أو ولد الإبن، والنصف له عند عدمها ۔ (۴۲۲/۱۰ ، کتاب الفرائض)

(۴) ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما للأم فأحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔۔۔۔ السدس مع الولد ۔ (ص/۱۹)

(۵) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومع الإبن للذکر مثل حظ الأنثیین ، وهو یعصبهن ۔ (ص/۱۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۸ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔