آٹھ لڑکوں اور تین لڑکیوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۶۶)

سوال:

زید مرحوم نے ترکہ میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار(۳۶۵۰۰۰) روپے چھوڑے، ۸/لڑکے اور ۳/ لڑکیا ں وارث ہیں، وراثت سے ہر ایک کواز روئے شرع کتنا حصہ ملے گا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

مرحوم کی یہ نقد رقم انیس (۱۹) حصوں میں تقسیم ہوکر، دو دو حصے کے اعتبار سے ہر لڑکے کو اڑتیس ہزار چار سو اکیس روپے باون پیسے(۳۸۴۲۱.۵۲)، اور ایک ایک حصے کے اعتبار سے ہر لڑکی کو انیس ہزار دو سو دس روپے پانچ سو چھبیس پیسے(۱۹۲۱۰.۵۲۶) ازروئے شرع ملیں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث ۔۔۔۔۔۔مع الابن للذکر ،ثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن ۔(ص/۱۲) فقط 

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۲۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔