والد اور والدہ کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۷۷)

سوال:

ایک چھوٹے بچے کا انتقال ہوا، جس نے اپنے ترکہ میں پچیس ہزار (۰۰۰ ۲۵) روپے نقد اور دیگر کچھ سامان چھوڑا ہے، واضح رہے کہ مرحوم معصوم کے پس ماندگان میں صرف والداوروالدہ موجود ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ از روئے شرع ان کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

مرحوم معصوم کی نقد رقم اور دیگر سامان میں سے ماں کو ازروئے شرع ایک تہائی(۱)، اور باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے ما بقیہ نقد وسامان ملے گا(۲)، اس اعتبار سے نقد رقم میں سے ما ں کو آٹھ ہزار تین سو تینتیس روپے تینتیس پیسے (۳۳- ۸۳۳۳)اور باپ کو سولہ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے سڑ سٹھ پیسے (۶۷- ۱۶۶۶۶) ملیں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” السراجي في المیراث مع حاشیته “ : وأما للأم فأحوال ثلاث : ۔۔۔۔۔وثلث الکل عند عدم ھوٴلاء المذکورین ۔ (السراجي) ۔ وفي هامشه : قوله : (عند عدم ھوٴلاء المذکورین) أي عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل ، وعند عدم الإثنین من الإخوة والأخوات فصاعدًا ، علم ذلک بقوله تعالی : ﴿فَإِنْ لَمْ یَکَنْ لَه وَلَدٌ وَّوَرِثَه أَبَوَاه فَلِأُمِّه الثُّلُثُ فَإِنْ کَانَ لَه إِخْوَةٌ فَلِأُمُِه السُّدُسُ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱) ۔(ص/۱۷ ، ط : مکتبه یاسر ندیم دیوبند)

(۲) ما في ” السراجي في المیراث “ : والتعصیب المحض ، وذلک عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل ۔

(ص/۱۰ ، ط : مکتبه یاسر ندیم ، الفتاوی الهندیة : ۵۵۶/۶، کتاب الفرائض) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۵/۲۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔