(فتویٰ نمبر: ۱۲۶)
سوال:
۱-حاجی قاسم بھائی کھتری کے والد مرحوم حاجی موسی صاحب کے ۷/حقیقی بھائی اور چار بہنیں تھیں، مرحوم حاجی موسیٰ کے والد صاحب (قاسم بھائی) کے دادا کے انتقال کے وقت تمام بھائی بہن زندہ تھے، اور حاجی موسیٰ صاحب کے والد نے انتقال کے وقت جو ملکیت چھوڑی ہے وہ تین لاکھ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں کس کے حصے میں کتنا حصہ آئے گا؟ اور مرحوم حاجی موسیٰ صاحب کی والدہ کا انتقال بعد میں ہوا ہے، اس وقت ۴/ بہنوں میں سے دو بہنوں کا انتقال ہوچکا ہے، اور دو بہنیں زندہ ہیں،نیز موسیٰ بھائی بھی انتقال کرچکے ہیں۔
نوٹ-: ملکیت کا حساب حصص کے اعتبار سے تحریرکریں کہ کل مال کے ۸/ حصص ہوں گے، ۳/ فلاں کے، ۲/ فلاں کے، تاکہ قیمتوں کے فرق سے حساب میں آسانی رہے۔
۲-احمد بھائی کی شادی قاسم بھائی کے چچا کی لڑکی سے ہوئی جس کانام آمنہ ہے، اب آمنہ کا انتقال ہوچکا ہے، اور جس مکان میں احمد بھائی رہتے ہیں اوروہ ان کے قبضے میں ہے، اس کے اصل مالک آمنہ بائی کے دادا تھے، اب آمنہ بائی کا انتقال ہوچکا ہے، تواب اس مکان کامالک کون ہے؟ آمنہ کے دادا کی وراثت کی تقسیم میں وہ شامل ہوگایا نہیں؟ یا اس کا مالک آمنہ کا شوہر ہوگا ؟
۳-شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کی ملکیت میں جو زیورات ہیں، اب بیوی کے انتقال کے بعد شوہر کی اولاد یعنی ماں کی ملکیت میں وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ مثلاً: ایک لاکھ روپے ہیں، اور چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں ،تو ازروئے شرع تقسیم کس طرح ہوگی؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-قاسم بھائی کے دادا کی ملکیت کی کل رقم تین لاکھ روپے (300000)ان کے سات لڑکوں ، چار لڑکیوں اور بیوی کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگی کہ کل مال کو ایک سو چوالیس (144) حصوں میں تقسیم کرکے، ہر لڑکے کو چودہ چودہ حصے، یعنی انتیس ہزار ایک سو چھیاسٹھ روپے چھیاسٹھ پیسے (29,166.66)اور ہر لڑکی کو سات سات حصے، یعنی چودہ ہزار پانچ سو تراسی روپے اکتیس پیسے (14,583.31)،اور بیوی کو اٹھارہ حصے،یعنی سینتیس ہزار چار سو نناوے روپے چورانوے پیسے (37,499.94)ازروئے شرع ملیں گے۔(۱)
۲-حاجی موسیٰ کی والدہ کو جو اٹھارہ حصے،یعنی سینتیس ہزار چار سو ننانوے روپے چورانوے پیسے (37,499.94)ان کے شوہر سے ملے ،وہ مال چودہ حصوں میں تقسیم ہوکر ان کے چھ لڑکوں کو دو دو حصے اور لڑکیوں کو ایک ایک حصہ، یعنی ہر لڑکے کو پانچ ہزار تین سو ستاون روپے بارہ پیسے (5,357.12)،اور ہر لڑکی کو دو ہزار چھ سو اٹھہتر روپے چھپن پیسے (2,678.56)ازروئے شرع ملیں گے۔(۲)
۳-جب یہ مکان آمنہ کے دادا کی ملکیت تھی اور انہوں نے آمنہ کو اس کا مالک نہیں بنایا تھا، تو وہ انہی کی ملک شمار ہوگا ،اور ان کے ترکہ میں داخل ہوکر ان کے ورثا کے درمیان تقسیم ہوگا ،آمنہ کا شوہر اس کا مالک نہیں ہوگا۔
۴-یہ ایک لاکھ روپے دس حصوں میں تقسیم ہوکر، چار لڑکوں میں سے ہر لڑکے کو دو دو حصے، اور دو لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ، یعنی ہر لڑکے کو بیس ہزارروپے (20000) ،اور ہرلڑکی کو دس ہزارروپے (10000)ازروئے شرع ملیں گے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “: ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ وقوله تعالی : ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱ ، ۱۲)
(۲/۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۰/۲۲ھ
