ہبہ نامہ کی ایک صورت بشکلِ تحریری وصیت

(فتویٰ نمبر: ۱۶۷)

سوال:

زید نے اپنی پوری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ نکال کر باقی ملکیت پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں میں تقسیم کرنے کے متعلق تحریر لکھی تھی،اس میں بیوی کے حصے کا کوئی ذکر نہیں ہے، جب کہ اس وقت وہ حیات تھی، تو کیا ایک تہائی نکال کر باقی جائداد وارثوں میں تقسیم ہوگی یا پوری؟ جب کہ اس ایک تہائی کا کوئی مصرف اس تحریر میں موجود نہیں ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں پوری جائداد وارثوں میں تقسیم ہوگی، کیوں کہ زید نے اپنے تمام لڑکوں اور لڑکیوں کو ہبہ نامہ کے مطابق دو تہائی پر قبضہ نہیں دیا تھا، جس کی وجہ سے ہبہ تام نہیں ہوا(۱)، اور اس دو تہائی اور اس ایک تہائی پر جس کو زید نے اپنے لیے الگ کیا تھا اسی کی ملکیت باقی رہی، جو اس کے انتقال کے بعدختم ہوگئی، اور اب پوری ملکیت میراث بن گئی، جو حصصِ شرعیہ کے مطابق ورثا کے مابین تقسیم ہوگی، اور اس میں اس کی بیوی بھی حق دار ہوگی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر “ : (الهبة) هي تملیک العین بلاعوض، وتصح بإیجاب وقبول ، وتتم بالقبض الکامل ، فإن قبض في المجلس بلا إذن صح وبعده لا بد من الإذن ۔(۴۸۹/۳۴۹۲ ، کتاب الهبة ، النقایة مع فتح باب العنایة : ۴۰۹/۲)

(۲) ما في ” الجوهرة النیرة “ : الموروث وهو الشيء الذي یترکه المیت في مال وعقار وغیره ۔ (۶۵۴/۲ ، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق : ۴۷۱/۷) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱/۲۱ھ

اوپر تک سکرول کریں۔