(فتویٰ نمبر: ۲۰۵)
سوال:
جب میری والدہ اور ان کے بھائی اور بہنوں کے درمیان مال تقسیم ہوا ، تو میری والدہ کے پاس بیس ہزار روپے وراثت میں آئے،اب ان پیسوں کو ماں اور بیٹی نے کوئی چیز مثلاً: سونا، چاندی وغیرہ خریدنے کے لیے رکھے ہوں، پھر والدہ کا انتقال ہوگیا ،تو اب گھر والوں میں سے ان پیسوں کا حق دار کون ہوگا؟ اور اگر کوئی چیز خریدنے کے لیے یا گھر والوں میں سے کسی کو دینے کے بارے میں کوئی نیت نہ کی ہو، تو پھر ان پیسوں کے استعمال کرنے کا حق دار کون ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
آپ کی والدہ نے جو ۲۰/ ہزار روپے کسی چیز کو خریدنے کے لیے رکھا تھا اور وہ نہ خرید سکی، تو ان کے انتقال کے بعد یہ رقم تمام ورثا کے مابین حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الشریفیة شرح السراجیة “ : الترکة ما ترکه المیت خالیًا عن حق الغیر بعینه وإن کان حق الغیر متعلقًا بعینه ۔ (ص/۱)
ما في ” السراجي في المیراث “ : قال علمائنا رحمه اللّٰه تعالی : تتعلق بترکة المیت حقوق أربعة مرتبة : الأول یبدأ بتکفینه وتجهیزه من غیر تبذیر ولا تقتیر ، ثم تقضی دیونه من جمیع ما بقي من ماله ، ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقي بعد الدین، ثم یقسم الباقي بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة ۔ (ص/۵)
(الدر المختار مع الشامیة : ۴۱۲/۱۰ ، تبیین الحقائق : ۴۷۳/۷) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۴/۱۷ھ
