مکتب میں اساتذہ کے تقرر کے لیے ”نورانی قاعدہ“ کو لازم قرار دینا!

(فتویٰ نمبر:۳۵)

سوال:

۱-کیاقرآنِ مجید کی صحت ضر وری ہے،یا”نورانی قاعدہ“پڑھناضروری ہے؟

۲-کیاقرآن شریف کی صحت کے لیے”نورانی قاعدہ“ہی پڑھنا،پڑھانافرض یاواجب ہے، یاکسی اور قاعدہ سے بھی قرآن شریف کی صحت کروائی

جاسکتی ہے؟

۳-مکتب کے اساتذہ کے تقررکے لیے یہ شرط لگاناکہ ”نورانی قاعدہ“ پڑھاہوا ہونا چاہیے،وہ بھی کسی مخصوص درس گاہ ہی سے،کیا اس طرح کی شرط لگاناجائزہے؟

آج کل مکاتب میں علما کی تقرری کے لیے یہ شرط عام ہورہی ہے کہ”نورانی قاعدہ“ایک مخصوص درس گاہ ہی سے پڑھا ہونا چاہیے، باوجودیکہ وہ عالم صاحب اپنی مادرِ علمی میں’ ’نورانی قاعدہ“پڑھ چکے ہیں،پھربھی انہیں اس درس گاہ میں داخلہ لینے پرمجبورکرتے ہیں، کیایہ جائزہے؟

۴-کیا”نورانی قاعدہ“(جوغیرذی روح ہے) قرآن شریف کی صحت کاواحدذریعہ ہے؟ یااستادِ محترم (جوذی روح ہیں)سے قرآن شریف کی صحت کراسکتے ہیں؟

نوٹ-: ”نورانی قاعدہ“کاہم احترام کرتے ہیں، اس کومفیدجانتے ہیں اوراس کوداخلِ نصاب کرنے میں ہمیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-علمِ تجویدوقرأت کا تعلُّم وتعلیم وجوبِ کفائی ہے،اورعمل بالتجویدیعنی قرآنِ کریم کوصحت وتجویدکے ساتھ پڑھناہرمسلمان عاقل،بالغ،مرد و عورت، تالی ٴ قرآن پرلازم وواجب ہے(۱)،جس شئ کے بغیرواجب انجام نہ پاسکتاہو،وہ بھی بواسطہ وجوبِ مقصودواجب ہوتی ہے۔(۲)

پھرذرائع ووسائل کی دوقسمیں ہیں:

(۱)… وہ ذریعہ جس کی کیفیت خودشارع علیہ السلام نے متعین فرمائی، جسے ہم شرطِ شرعی سے تعبیرکرتے ہیں،مثلاً:وضوبوقتِ وجوبِ صلوة واجب ہے۔

(۲)… وہ ذریعہ جس کی کیفیت شریعت نے متعین نہیں کی ،جسے ہم شرطِ حسّی کہتے ہیں، مثلاً: سعي إلی الجمعةاور مشي إلی الحج وإلی مواضع النسک، اس میں بندہ مختارہوتاہے کہ اسے ادائے حج وجمعہ کے لیے کس طرح پہنچناہے؟بَرّی راہ سے،بحری راہ سے یافضائی راہ سے، اورکس سواری سے یہ مسافت طے کرنی ہے، ٹھیک اسی طرح قرآنِ کریم کو صحت وتجویدکے ساتھ پڑھنا واجب ہے،اوروجوبِ مقصودکے واسطے سے جتنی کتابیں اس فن میں لکھی گئیں، وہ سب کی سب وسیلہٴ واجبہ کے درجے میں ہیں،اوربندے کواس میں اختیارہے کہ کس مصنف کی کتاب کوپڑھنا ہے اورکس معلم سے پڑھناہے؟کیوں کہ شریعت نے وسیلے کی تعیین نہیں فرمائی کہ تحصیلِ تجویدوصحت کے لیے یہی کتاب پڑھناضروری ہے؛ اس لیے یہ امرمختارفیہ ہے اورامرِمختارفیہ میں یہ کہناکہ یہی صحیح ہے،غلط ہوگا،ہاں!البتہ ہرشخص کااپناایک ذاتی تجربہ ہوتاہے، جس کی بنا پروہ یہ کہتاہے کہ فلاں کتاب اس مقصودکی تحصیل میں بہترین ذریعہ ہے،اوراس کواپنانابہتر و اَولیٰ ہے۔اس کے اس قول کی حیثیت محض ظنِ غالب کی ہوسکتی ہے ،منصوص کی نہیں،کہ اس کواپنانے پر اجبارواصرارکیاجائے۔یہی حکم تمام امورِ غیرمنصوصہ مجتھدفیہاکاہوتاہے،جیساکہ امام مالک رحمہ اللہ جب کوئی مسئلہ اپنے اجتہادورائے کی بنا پربیان کرتے تھے، توساتھ ہی یہ آیت ِ کریمہ تلاوت فرمادیاکرتے تھے کہ:﴿اِن نَظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ﴾۔ ”ہم محض اس کوظنی خیال کرتے ہیں اورہمیں یقین نہیں ہے۔“ (سورة الجاثیة : ۴۵) ۔ (فتاویٰ اسلامیہ:ص/۲۹)

خلاصہٴ کلام یہ کہ صحتِ قرآن مقصودہے،اورنورانی قاعدہ اس مقصودکے وسائل وذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے، اس کی جگہ دوسرے ذریعے کوبھی اختیار کیا جاسکتا ہے، راہ کوئی بھی ہو(بشرطِ مباح) منزل پرپہنچنا،راہی کی صلاحیت واستعداداورتوفیق وفیضانِ خداوندی پرمبنی ہوتاہے،بسااوقات راہ بڑی اچھی ہوتی ہے،مگرراہی میں موجود،موانعِ وصول إلی المقصودکی وجہ سے وہ مقصودپرنہیں پہنچتا اورکبھی اس کے برعکس بھی ہوتاہے۔

۲/صحت واجب ہے،تعیینِ ذریعہٴ واجبہ، واجب نہیں۔

۳/تقرری کے لیے یہ شرط لگاناکہ معلّم نورانی قاعدہ پڑھاہواہواوروہ بھی کسی مخصوص درس گاہ ہی سے،اس طرح کی شرط لگانا،ممکن ہے ادارہ یاانتظامیہ کی مصالحِ معہودہ کی تحصیل کے لیے ہو،لیکن یہ ایسی شرط نہیں ہے جومحلل شرع کومحرم اورمحرم کومحلل بنائے؛اس لیے یہ جائزہے۔(۳)

۴/(الف)جی نہیں!(تفصیل اُوپرگذرچکی)

(ب)جی ہاں!کیوں کہ صحت ہی مقصودہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” البدور الزاهرة “ : حکم الشارع فیه : الوجوب الکفائي تعلمًا وتعلیمًا۔(ص/۵ ، تألیف : شیخ عبد الفتاح بن عبد الغني)

ما في ” المقدمة الجزریة “ : والأخذ بالتجوید حتم لازم ، من لم یجوّد القرآن اٰثم ۔ (ص/۱۰)

(۲) ما في”اعلام الموقعین “:”وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود“ ۔ (۱۷۵/۳)

ما في ” فقه النوازل “ : ” ان ما لا یتم الواجب إلا به فهو واجب “ ۔ (۲۲۳/۲)

(۳) ما في ” جامع الترمذي “ : عن عمرو بن عوف – رضي اللّٰه عنه – قال : قال النبي ﷺ : ” المسلمون علی شروطهم إلا شرطًا حرم حلالا أو أحلَّ حرامًا “ ۔

(۲۵۱/۱ ، ط : قدیمي ، و:۳۴۳/۲ ، ط : بیروت ، سنن أبي داود : ص/۵۰۶ ، بذل المجهود في حل سنن أبي داود : ۳۱۹/۱۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد:محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۲۹/۳/۲ھ

 الجواب صحیح:عبدالقیوم اشاعتی۔۱۴۲۹/۳/۲ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔