مسئلہ:
نمازی کے آگے سے گذرنے والے کے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، مگر گذرنے والا سخت گنہگار ہوتا ہے(۱)، آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والے کو یہ معلوم ہوتا کہ اس سے کس قدر گناہ ہوتا ہے، تو وہ چالیس سال تک اپنی جگہ کھڑا رہتا، مگر گذرنے کی ہمت نہ کرتا“۔(۲)
اس لئے جو لوگ مسجد میمنی کے باہری حصہ میں سے اس حال میں گذرتے ہیں کہ طلباء وعوام صحن میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، اور یوں خیال کرتے ہیں کہ ان پر نمازی کے آگے سے گذرنے کا گناہ نہیں ہوگا، ان کا یہ خیال سراسر غلط ہے، کیوں کہ فرشِ مسجد ِمیمنی کی سطح اس کی فرشِ صحن سے اس قدر بلند نہیں کہ گذرنے والا گنہگار نہ ہو، اس لئے کہ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص زمین کی نچلی سطح پر نماز پڑھ رہا ہو، اور گذرنے والا زمین کی اس قدر بلند سطح سے گذر رہا ہو کہ اس کا نیچے کا آدھا بدن نمازی کے اوپر کے آدھے بدن کے محاذات وبرابری میں آجاتا ہے تو یہ مکروہ ہے۔(۳)
لہٰذا طلباء ،علماء اورعوام کو چاہیے کہ گذرگاہ سے بچ کر نماز ادا کرنے کی سعی کریں، اور گذرنے والوں کو چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو دوسرے راستہ کا انتخاب کریں ، تاکہ نمازی اور گذرنے والا دونوں گناہ سے بچ جائیں، ورنہ دونوں گنہگار ہوں گے ۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : اتفق أئمة المذاهب الأربعة علی أن المرور بین یدی المصلی لا یقطعها ولا یبطلها۔(۹۵۱/۲،هل المرور بین یدی المصلی یقطع الصلوٰة ؟)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو مر مار فی موضع سجوده لا تفسد وإن أثم ۔
(۱۰۴/۱، الباب السابع فیما یفسد الصلوٰة وما یکره فیها ، الشامیة :۳۴۳/۲ ، کتاب الصلوٰة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)
(۲)ما فی ” جامع الترمذي “ :عن بسر بن سعید أن زید بن خالد الجهنی أرسل إلی أبی جهیم یسأله ما ذا سمع من رسول الله ﷺ فی المار بین یدی المصلی؟ فقال أبوجهیم: قال رسول الله ﷺ:”لو یعلم المار بین یدي المصلی ماذا علیه لکان أن یقف أربعین خیر له من أن یمر بین یدیه“۔(۷۹/۱،أبواب الصلاة،ما جاء کراهیة المرور بین یدی المصلی)
(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : أو مروره (أسفل من الدکان أمام المصلی لو کان یصلی علیها) أی الدکان (بشرط محاذاة بعض أعضاء المار بعض أعضائه وکذا سطح وسریر وکل مرتفع) دون قامة المار ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة : قال ابن عابدین الشامی تحت قوله : (بعض أعضاء المار بعض أعضائه) أنه یکره إذا حاذی نصفه الأسفل النصف الأعلی من المصلی کما إذا کان المار علی فرس ۔ تأمل۔(۳۴۳/۳ ، کتاب الصلوٰة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره ، الهندیة :۱۰۴/۱)
(۲) ما فی ” الشامیة “ : قال الشامي رحمه الله تعالی : قال فی ” الحلیة “ : وقد أفاد بعض الفقهاء أن هنا صورًا أربعًا ، الثالثة : أن یتعرض المصلی للمرور ویکون للمار مندوحة فیأثمان ، أما المصلی فلتعرضه ، وأما المار فلمروره مع إمکان أن لا یفعل۔ (۳۴۴/۲ ، کتاب الصلوٰة ، باب ما یفسد الصلوٰة وما یکره)
