مسئلہ:
اگر کوئی شخص جنازہ کی نماز میں ایسے وقت شریک ہوا کہ امام دو تکبیر کہہ چکا تھا، تو یہ شخص تیسری تکبیر کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوکر دعاء پڑھے، پھر چوتھی تکبیر کے بعد جب امام نماز پوری کردے تو یہ ایک تکبیر کہہ کر ثناء پڑھے، دوسری تکبیر کہہ کر درودشریف پڑھے، اور اگر جنازہ جلدی اٹھائے جانے کا اندیشہ ہو تو صرف دو تکبیر کہہ کر نماز ختم کردے(۱)، اور اگر ایسے وقت پہنچا کہ امام چاروں تکبیریں کہہ چکا تھا، مگر ابھی سلام نہیں پھیرا تھا تو یہ شخص نماز میں شریک ہوجائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد تین تکبیریں بغیر دعا کے کہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (والمسبوق) ببعض التکبیرات لا یکبر فی الحال بل (ینتظر) تکبیر (الإمام لیکبر معه) للإفتتاح لما مر أن کل تکبیرة کرکعة، والمسبوق لا یبدأ بما فاته (کما لا ینتظر الحاضر) فی (حال التحریمة) بل یکبر اتفاقاً للتحریمة لأنه مدرک ، ثم یکبر أن ما فاتهما بعد الفراغ نسقاً (بلا دعاء إن خشیا رفع المیت علی الاعنقاق) ۔ (۱۰۸/۳ ، باب الجنائز)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا جاء رجل وقد کبر الإمام التکبیرة الأولی ولم یکن حاضرًا انتظره حتی یکبر الثانیة ویکبر معه ، فإذا فرغ الإمام کبر المسبوق التکبیرة التی فاتته قبل أن ترفع الجنازة ، وهذا قول أبی حنیفة ومحمد رحمهما الله ، وکذا إن جاء وقد کبر الإمام تکبیرتین ، أو ثلاثاً ۔ کذا فی السراج الوهاج ۔
(۱۶۴/۱ ، ۱۶۵، الباب الحادی والعشرون فی صلوٰة الجنازة ، الفصل الخامس فی الصلوٰة علی المیت، البحر الرائق: ۳۲۴/۲، کتاب ا لجنائز، السلطان أحق بصلوٰته، مراقي الفلاح مع الطحطاوي:ص/۲۱۶، أحکام الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوٰته، حلبی کبیر:ص/۵۸۷، فصل فی الجنائز، الرابع الصلوٰة علیه)
(۲) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإن جاء رجل وقد کبر الإمام أربعًا ولم یسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الأصح أنه یدخل وعلیه الفتوی ۔کذا فی المضمرات ۔ ثم یکبر ثلاثاً قبل أن ترفع الجنازة متتابعًا لا دعاء فیها ۔ کذا فی خلاصة وفتاوی قاضیخان ۔
(۱۶۵/۱، الفصل الخامس فی الصلوٰة علی المیت، فتاوی قاضی خان :۹۲/۱، باب فی غسل المیت، البحر الرائق:۳۲۵/۲ ، السلطان أحق بصلوٰته)
(فتاوی محمودیه:۵۹۴/۸، فتاوی حقانیه:۴۴۱/۳)
