جنازہ کی نماز ایک دفعہ ہے اس سے زیادہ نہیں!

مسئلہ:

جنازہ کی نماز ایک دفعہ ہے اس سے زیادہ نہیں(۱)، ہاں اگر ولی نے ابھی نماز نہیں پڑھی، بلکہ کسی اور نے اس کی اجازت کے بغیر پڑھ لی ، پھر ولی پڑھنا چاہے تو اس کو اجازت ہے(۲)، لیکن اگر ولی نے کسی اور کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دیدی، اجازت چاہے صراحةً ہو یا دلالةً، یعنی دوسرے لوگوں نے اپنے طور پر نماز شروع کی اور ولی نے اقتدا کرلی، یا ولی وہاں موجودہوتے ہوئے نماز جنازہ میں محض اس لیے شریک نہ ہوا، تاکہ دوبارہ، سہ بارہ نماز جنازہ ہوسکے، تواس صورت میں بھی دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے کہ ایک بار نماز پڑھ لینے سے فریضہ ساقط ہوگیا، اب دوبارہ سہ بارہ نمازِ جنازہ پڑھنا خلافِ مشروع ہونے کی وجہ سے بدعت ہے، اوراس میں تنفل جائز نہیں ہے (۳)، البتہ اگر کوئی شخص نمازِ جنازہ کے بعد حاضر ہوا ہو تو دعا واستغفار کرلے۔

اگر کوئی شخص حضرات صحابہ کے عمل سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہے کہ ”انہوں نے حضور اقدس ﷺ کی نماز جنازہ یکے بعد دیگرے ادا کی“، تو اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں ، اس لیے کہ فقہائے کرام نے ان کے عمل کی توجیہات بیان فرمائی ہیں:

 ۱-بحیثیت خلیفة المسلمین حقِ ولایت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل تھا، آپ کے پڑھنے سے قبل دوسرے لوگ پڑھتے رہے، خلافت کے انتظام اور تسکین فتنہ کے بعد جب آپ نے پڑھ لی، تو اس کے بعد کسی نے بھی نہیں پڑھی۔(۴)

۲-یہ حضور اقد س ﷺ کی خصوصیت تھی۔(۵)

 ۳-حضور اقدس ﷺ کا صحابہ پر جو حق عظیم ہے، وہ ظاہر ہے، لہٰذا ہر وہ صحابی جو اس وقت وہاں موجود تھے، ان پر نمازِ جنازہ فرض عین تھی، مکرر پڑھنا ان کے حق میں نفل نہیں تھا۔(۶)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یصلی علی میت إلا مرة واحدة ۔(۱۶۳/۱، الفصل الخامس فی الصلاة علی المیت)

(۲) ما فی ” بدائع الصنائع “ : ولا یصلی علی میت إلا مرة واحدة ، لا جماعة ولا وحدانا عندنا ، إلا أن یکون الّذین صلوا علیها أجانب بغیر أمر الأولیا ، ثم حضر الولی فحینئذٍ له أن یعیدها ۔ (۴۷/۲ ، کتاب الصلاة ، من یصلی علیه)

(۳) ما فی ” البحر الرائق “ : قوله : (ولم یصل غیره بعده) أی بعد ما صلی الولي لأن الفرض قد تأدی بالأولی ، والتنفل بها غیر مشروع ۔

(۳۱۸/۲ ، کتاب الجنائز ، الهندیة :۱۶۳/۱، الفصل الخامس فی الصلاة علی المیت)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : ولأن الفرض قد سقط بالفعل مرة واحدة لکونها فرض کفایة ، ولهذا إن لم یصل لو ترک الصلاة ثانیاً لا یأثم ، وإذا سقط الفرض فلو صلی ثانیاً کان نفلا ، والتنفل بصلاة الجنازة غیر مشروع ۔ (۴۸/۲ ، کتاب الصلاة ، کیفیة الصلاة علی الجنازة)

(۴) ما فی ” بدائع الصنائع “ : وروي عنه ﷺ أنه قال : لا یصلی علی غیر ما دامت بین أظهرکم فلم یسقط الفرض بأداء غیره ، وهذا هو تأویل فعل الصحابة رضی الله تعالی عنهم ، فإن الولایة کانت لأبی بکر ، لأنه هو الخلیفة إلا أنه کان مشغولا بتسویة الأمور وتسکین الفتنة ، فکانوا یصلون علیه قبل حضوره ، فلما فرغ صلی علیه ثم لم یصلی بعده علیه ۔ والله أعلم ۔(۴۸/۲ ، کتاب الصلاة ، کیفیة الصلاة علی الجنازة)

(۵) ما فی ” حاشیة الطحطاوی “ : وصلاة الصحابة علیه ﷺ أفواجًا خصوصیة کما أن تأخیر دفنه من یوم الإثنین إلی لیلة الأربعاء کان کذلک ، لأنه مکروه فی حق غیره بالإجماع ۔ (ص/۵۹۱ ، کتاب الصلاة)

(۶) ما فی ” حاشیة الطحطاوی “ : أو لأنها کانت فرض عین علی الصحابة لعظیم حقه ﷺ علیهم لا تنفلا بها ، وأن لا یصلی علی قبره الشریف إلی یوم القیامة لبقائه ﷺ کما دفن طریاً ، بل هو حي یرزق ، ویتنعم بسائر الملاذ والعبادات ، وکذا سائر الأنبیاء علیهم الصلاة والسلام ، وقد أجمعت الأمة علی ترکها کما فی السراج والحلبی والشرح۔

(ص/۵۹۱ ، کتاب الصلاة)

(فتاوی رحیمیه:۴۸/۷، فتاوی دار العلوم :۲۸۹/۵، فتاوی حقانیه :۴۴۳/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔