مسئلہ:
احناف کے نزدیک بلا کسی عذر مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے(۱)، کیوں کہ آپ ﷺ اور حضراتِ صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا دائمی عمل مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا نہیں تھا(۲)، بلکہ مسجد کے باہر اس کیلئے مستقل علیحدہ جگہ بنوائی گئی تھی(۳)، لہٰذا بعض لوگوں کا حضرت عائشہ والی روایت : ” واللہ قد صلی رسول اللہ ﷺ علی ابنَي بیضاء في المسجد “”قسم بخدا آپ ﷺ نے سہیل بن بیضاء اور ان کے بھائی پرمسجد میں نمازِ جنازہ پڑھی“(۴)۔ اور موٴطا امام مالک کی روایت :” صلی علی عمر بن الخطاب في المسجد “” عمر بن خطاب کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی“(۵) سے حضرت ابوہریرہ کی روایت :” من صلی علی جنازة في المسجد فلا شيء له “ ”جو شخص مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھے اس کو کو ئی اجر نہیں ملے گا“(۶) کے منسوخ ہونے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ محدثین نے حضرت عائشہ والی روایت کے یہ جوابات دیئے ہیں :
(۱)سہیل ابن بیضاء کی نمازِ جنازہ مسجد میں عذر کی وجہ سے پڑھی گئی تھی۔(۷)
(۲) حدیث عائشہ میں خود صحابہ کا انکار:”ما کانت الجنائز یدخل بها المسجد“(۸)، ثابت کرتا ہے کہ نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھنے کا دستور نہ تھا۔
(۳) حدیث عائشہ مرسل ہے(۹)، اور مرسل سے استدلال صحیح نہیں ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں حدیث مرفوع متصل موجود ہو ۔
(۴) محض سہیل ابن بیضاء کی مثال دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ دوسرے جنازے خارج مسجد پڑھے جایا کرتے تھے(۱۰)، اور مذکورہ جنازہ کسی عذر کی وجہ سے مسجد میں پڑھا گیا تھا، اور موٴطا امام مالک والی روایت کے مندرجہٴ ذیل جوابات دئے ہیں:
(۱) عمر بن خطاب پر مسجد میں نماز جنازہ کا پڑھنا بربناء عذر تھا، اور عذریہ تھا کہ حضرت عمر کو حضور ﷺ کے قریب دفن کرنا تھا(۱۱)، اوروہ حجرہ مسجد میں ہونے کی وجہ سے جنازہ مسجد میں سے لیجائے بغیر چارہٴ کار نہ تھا، اسی وجہ سے صحابہ نے اور توسع کی اور نماز بھی مسجدمیں پڑھائی گئی۔
(۲) اگر حضرت عمر کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھاجانا روایتِ ابوہریرہ کیلئے ناسخ بن گیا، تو پھر صحابہ نے حضرت سعد کے جنازے کو مسجد میں لانے پر اتنی چہ می گوئیاں کیوں کیں(۱۲)، جب کہ حضرت سعد کی وفات حضرت عمر کے ایک سال بعد ہوئی، اگر صحابہ کے نزدیک حدیثِ ابوہریرہ منسوخ ہی تھی تو ایسا کیوں ہوا؟
خلاصہٴ مسئلہ یہ ہے کہ مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مکروہ ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” بذل المجهود “ : وقال أبو حنیفة وأصحابه بکراهة الصلوٰة علی المیت فی المسجد، قال فی الدر المختار : وکره تحریمًا، وقیل تنزیها فی مسجد جماعة، هو أی المیت فیه وحده أو مع القوم، واختلف فی الخارجة عن المسجد وحده، أو مع بعض القوم، والمختار الکراهة مطلقًا۔ ” خلاصة “ ۔ بناء علی أن المسجد بنی للمکتوبة وتوابعها کنافلة وذکر وتدریس علم۔ انتهیٰ ۔ واستدلوا بالحدیث الثالث من الباب، فإن ظاهره یدل علی الکراهة ۔
(۴۷۳/۱۰ ،کتاب الجنائز، باب الصلوٰة علی الجنازة فی المسجد، الدر المختار مع الشامیة : ۱۱۸/۳ ، باب صلوٰة الجنائز، مطلب فی کراهة صلوٰة الجنازة فی المسجد)
(۲) ما فی ” صحیح البخاری “ : عن أبی هریرة : ” أن رسول الله ﷺ نعی النجاشی فی الیوم الذی مات فیه وخرج إلی المصلی فصفّ بهم وکبر أربعًا “ ۔
(۱۶۷/۱ ،کتاب الجنائز، باب الرجل ینعی إلی أهل المیت بنفسه، الصحیح لمسلم :۳۰۹/۱ ، کتاب الجنائز ، فصل فی النعی الناس المیت)
ما فی ” الصحیح لمسلم “ : قالوا : ” ما کانت الجنائز یدخل بها المسجد “۔(۳۱۳/۱ ، کتاب الجنائز ، فصل فی جواز الصلوٰة علی المیت فی المسجد)
ما فی ” زاد المعاد فی هدی خیر العباد لإبن قیم الجوزی “ : ولم یکن من هدیه الراتب الصلوٰة فی المسجد وإنما کان یصلی علی الجنازة خارج المسجد ۔
(۱۴۰/۱ ، فصل من هدیه ﷺ الإسراع بتجهیز المیت)
ما فی ” المدخل لإبن الحاج “ : العمل المتصل وهو أنهم کانوا لا یصلون علی میتٍ في المسجد ۔ (۴۳۵/۲ ، فصل فی الصلوٰة علی المیت فی السمجد)
(۳) ما فی ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن عمر : ” أن الیهود جاء وا إلی النبي ﷺ برجل منهم وامرأة زنیا فأمر بهما فرجما قریبًا من موضع الجنائز عند المسجد “۔
(۱۷۷/۱ ، کتاب الجنائز ، باب الصلوٰة علی الجنائز بالمصلي والمسجد)
ما فی ” فتح الباری “ : عن ابن حبیب أن مصلی الجنائز بالمدینة کان لاصقًا بمسجد النبی ﷺ من ناحیة المشرق ۔
(۲۵۴/۳ ،کتاب الجنائز، باب الصلوٰة علی الجنائز بالمصلی والمسجد، أوجز المسالک : ۴۷۷/۴ ، الصلوٰة علی الجنائز فی المسجد)
(۴) (الصحیح لمسلم :۳۱۳/۱ ، کتاب الجنائز ، فصل فی جواز الصلوٰة علی المیت فی المسجد)
(۵) (الموٴطأ للإمام مالک :ص/۸۰ ، کتاب الجنائز ، الصلوٰة علی الجنائز فی المسجد)
(۶)ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن أبی هریرة قال: قال رسول الله ﷺ : ” من صلی علی جنازة فی المسجد فلا شيء له “۔(ص/۴۵۴،باب الصلوٰة علی الجنازة فی المسجد)
(۷) ما فی ” فتح الباری “ : ودل حدیث ابن عمر علی أنه کان للجنائز مکان معدّ لصلوٰة علیها فقد یستفاد منه أن ما وقع من الصلوٰة علی بعض الجنائز فی المسجد کان لأمر عارض۔(۲۵۴/۳ ، کتاب الجنائز، باب الصلوٰة علی الجنائز بالمصلی والمسجد)
ما فی ” لامع الدراري “ : وقد أول بعض أصحابنا حدیث عائشة إنما صلی فی المسجد بعذر مطر وقیل بعذر الإعتکاف ۔
(۳۶۴/۴ ، کتاب الجنائز ، باب صلوٰة الصبیان مع الناس)
ما فی ” عمدة القاری “ : قلتُ : نحن أیضًا نقول : صلوته فی المسجد کان للمطر أو للاعتکاف ۔
(۳۰/۸ ، کتاب الجنائز، باب الرجل ینعی إلی أهل المیت بنفسه، أوجز المسالک : ۴۷۸/۴، کتاب الجنائز ، الصلوٰة علی الجنائز فی المسجد)
(۸) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن عبد الله بن الزبیر یحدث عن عائشة أنها لما توفی سعد بن أبی وقاص أرسل أزواج النبیﷺ أن یمروا بجنازته فی المسجد فیصلین علیه، ففعلوا فَوُقِفَ به علی حجرهن یصلین علیه، ثم أخرج به من باب الجنائز الذی کان إلی المقاعد فبلغهنَّ أن الناس عابوا ذلک وقالوا :” ما کانت الجنائز یُدخل بها المسجد“۔
(۳۱۳/۱ ، کتاب الجنائز ، فصل فی جواز الصلوٰة علی المیت فی المسجد)
(۹) ما فی” حاشیة النووي علی هامش المسلم “ : حدیث عائشة مما استدرکه الدارقطني وقال : خالف الضحاک حافظان ، مالک والماجشون ، فرویاه عن أبی النضر عن عائشة مرسلاً ، وقیل : عن الضحاک عن أبی النضر عن أبی بکر بن عبد الرحمن، ولا یصح إلا مرسلاً ، هذا کلام الدار قطني ۔ (۳۱۳/۱)
ما فی ” عمدة القاری “ : وکذلک حدیث عائشة لا یخلوعن کلام ، لأن جماعة من الحفاظ مثل الدارقطنی وغیره عابوا علی مسلم تخریجه إیاه مسنداً ، لأن الصحیح أنه مرسل کما رواه مالک والماجشون عن أبی النضر عن عائشة مرسلاً ، والمرسل لیس بحجة عندهم ۔(۳۰/۸ ، باب الرجل ینعی إلی أهل المیت بنفسه)
(۱۰) ما فی ” أو جز المسالک “ : قال عطاء : کان أکثر صلوٰة رسول الله ﷺ علی الجنازة فی المصلی ۔ (۴۷۸/۴ ، الصلوٰة علی الجنائز فی المسجد)
(۱۱) ما فی ” أوجز المسالک “ : صلاة الصحابة علی أبي بکر وعمر فی المسجد کانت لعارض دفنهما عند رسول الله ۔ (۴۸۵/۴ ، الصلوٰة علی الجنائز فی المسجد)
(۱۲) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن عائشة لما توفی سعد بن وقاص قالت : ” أدخلوا به المسجد حتی أصلی علیه فأنکر ذلک علیها “ ۔ (۳۱۳/۱)
ما فی ” أوجز المسالک “ : انکار الصحابة علی عائشة یدل علی اشتهار العمل بخلاف ذلک عندهم ۔ (۴۷۶/۴)
(فتاوی محمودیه:۶۷۷/۸)
