عید گاہ میں نمازِ جنازہ پڑھنا کیا درست ہے؟

مسئلہ:

جس طرح پوری مسجد میں کہیں بھی امام کی اقتدا جائز ہے، خواہ صفیں متصل نہ ہوں، اسی طرح پوری عیدگاہ میں کہیں بھی امام کی اقتدا جائز ہوگی، خواہ صفیں متصل نہ ہوں، عیدگاہ کا مسجد کے حکم میں ہونا محض اسی اعتبار سے (یعنی جوازِ اقتدا بصورتِ عدم اتصالِ صفوف) ہے، اس لئے عیدگاہ میں نمازِ جنازہ ممنوع نہیں ہے۔(۱)

نوٹ: پوری مسجد یا پوری عیدگاہ میں کسی بھی جگہ اقتدا کے جواز سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس طرح چاہے امام کی اقتدا کرلی جائے، بلکہ اگلی صفوں اور خالی جگہوں کو پُر کرنا واجب ہے(۲)، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں کراہت لازم آئیگی، کیوں کہ کسی امر کے جائز ہونے سے اس کا غیر مکروہ ہونا لازم نہیں آتا، اس لئے کہ جواز کراہت کے ساتھ جمع ہوجاتا ہے، یعنی ایک ہی امر جائز ہونے کے باوجود مکروہ ہوسکتا ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” صحیح البخاری “ : عن أبی هریرة : ” أن رسول الله ﷺ نعی النجاشی فی الیوم الذی مات فیه وخرج إلی المصلی فصفّ بهم وکبر أربعًا “ ۔

(۱۶۷/۱ ، کتاب الجنائز ، باب الرجل ینعی إلی أهل المیت بنفسه، الصحیح لمسلم :۳۰۹/۱ ، کتاب الجنائز ، فصل فی النعی الناس المیت)

ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : یصلی علی المیت فی المصلی کما فعل النبی ﷺ حینما برز للمصلی فی صلوٰته علی النجاشی ۔

(۱۵۳۴/۲: المبحث الثانی ، صلوٰة الجنائز ، الثانی عشر مکان الصلوٰة)

ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : لا تکره فی مسجد أعد لها ، وکذا فی مدرسة ومصلی عید ، لأنه لیس لها حکم المسجد فی الأصح ، إلا فی جواز الاقتداء وإن لم تتصل الصفوف ۔ (ص/۵۹۵ ، أحکام الجنائز ، السلطان أحق بصلوٰته)

ما فی ” البحر الرائق “ : واختلفوا أیضاً فی مصلی العیدین أنه هل هو مسجد ؟ والصحیح أنه مسجد فی حق جواز الإقتداء وإن لم تتصل الصفوف لأنه أعد للصلوٰة حقیقة لا فی حرمة دخول الجنب والحائض کذا فی المحیط وغیره ۔ (۳۲۸/۲ ، کتاب الجنائز ، السلطان أحق بصلوٰته)

(۲) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن جابر بن سمرة قال : قال رسول الله ﷺ : ” ألا تصفون کما تصف الملائکة عند ربهم ؟ “ قلنا : وکیف تصف الملائکة عند ربهم ؟ قال : ” یتمون الصفوف المقدمة ویتراصون فی الصف “ ۔(۹۷/۱ ، کتاب الصلوٰة ، باب تسویة الصفوف)

ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن ابن عمر أن رسول الله ﷺ قال : ” أقیموا الصفوف وحاذوا بین المناکب وسدوا الخلل “۔(ص/۹۷،کتاب الصلوٰة،باب تسویة الصفوف)

(۳) ما فی ” حاشیة ابن عابدین “ : فإن الجائز یطلق علی ما لا یحرم شرعًا ولو واجبًا أو مکروها ۔ (۶۴۵/۹)

(فتاوی محمودیه:۷۰۳/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔