پرانی قبر کھود کر اس میں دوسرا مردہ دفن کرنا

مسئلہ:

کسی ایسی قبر کو جس میں پہلے سے کوئی شخص مدفون ہے ، کسی دوسری میت کو دفن کرنے کیلئے نہیں کھودا جائیگا، لیکن اگر پہلی میت بالکل مٹی بن گئی ہو تو اس میں دوسری میت کو دفن کرنا درست ہے، بالخصوص ہمارے اس زمانے میں کہ شہری ودیہی آبادیاں اس قدر بڑھ گئیں کہ جو قبرستان ماضی میں شہروں اور گاوٴں سے کافی دوری پر واقع تھے آج وہ بالکل قلب شہر میں آچکے ہیں ، اور قبرستانوں کیلئے دوسری جگہوں کا ملنا بڑا مشکل ہوگیا ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی رحمه الله : قال فی الفتح : ولا یحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلی الأول فلم یبق له عظم، وقال الزیلعی : ولو بلی المیت وصار تراباً جاز دفن غیره فی قبره وزرعه والبناء علیه، وقال فی الإمداد: ویخالفه ما فی التاتارخانیة: إذا ار المیت تراباً فی القبر یکره دفن غیره فی قبره لأن الحرمة باقیة، قلتُ: لکن فی هذا مشقة عظیمة فالأولی إناطة الجواز بالبلاء إذ لا یمکن أن یعد لکل میت قبر لا یدفن فیه غیره، وإن صار الأول تراباً لا سیما فی الأمصار الکبیرة الجامعة۔

(۱۲۹/۳باب صلوٰة الجنائز، مطلب فی دفن المیت ، مراقي الفلاح مع الطحطاوي: ص/۲۲۲ ، باب أحکام الجنائز، فصل فی حملها ودفنها، فتح القدیر: ۱۵۰/۲، باب الجنائز، فصل فی الدفن، الموسوعة الفقه الإسلامي: ۷۷۷/۲، کتاب الجنائز، دفن المیت)

(فتاوی محمودیه : ۹۷/۹، فتاوی رحیمیه :۶۹/۷)

اوپر تک سکرول کریں۔