مسئلہ:
وقتِ واحد میں چند مردوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنا درست نہیں ہے، مگر ضرورةً ایسا کیا جاسکتا ہے، اگر مردے مخلوط ہوں تو پہلے مرد کو رکھا جائے، اس کے بعد لڑکے کو، اس کے بعد خنثیٰ کو ،اس کے بعد عورت کو، اور ہر دو میت کے درمیان مٹی سے آڑ کر دی جائے، تاکہ حکماً وہ دو قبریں ہوجائیں، اور اگر سب مرد ہوں، یا سب عورتیں ہوں، تو لحد میں پہلے افضل کو رکھا جائے، اس کے بعد غیر افضل کو ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی” صحیح البخاری“ : عن عبد الرحمن بن کعب أن جابر بن عبد الله أخبره :” أن النبی ﷺ کان یجمع بین الرجلین من قتلی أحد “۔
(۱۷۹/۱، کتاب الجنائز، باب دفن الرجلین أو الثلثة فی قبر واحد)
ما فی ” عمدة القاری “ : هذا باب فی بیان جواز دفن الرجلین المیتین والثلاثة من الرجال فی قبر واحد ، قیل : لو قال : باب دفن الشخصین والثلاثة لکان أحسن لیتناول النساء ، قلت : النساء تبع للرجال فی الأحکام إلا إذا خصصت بشيء منها۔(۲۲۷/۸، کتاب الجنائز، باب دفن الرجلین أو الثلاثة فی قبر واحد)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولایدفن إثنان أو ثلاثة فی قبر واحد إلا عند الحاجة، فیوضع الرجل مما یلی القبلة، ثم خلفه الغلام، ثم خلفه الخنثیٰ، ثم خلفه المرأة، ویجعل بین کل میتین حاجزاً من التراب،کذا فی محیط السرخسي، وإن کان رجلین یقدم فی اللحد أفضلهما، هکذا فی المحیط، وکذا إذا کانتا امرأتین ، هکذا فی التاتارخانیة۔
(۱۶۶/۱تاب الصلوٰة، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس فی الدفن والنقل، البحر الرائق:۳۴۱/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوٰته، الفتاوی التاتارخانیة :۶۱۴/۱، کتاب الصلوٰة، الفصل الثانی والثلاثون فی الجنائز، نوع آخر فی القبر والدفن ، الشامیة :۳/۱۲۹، کتاب الصلوٰة ، باب صلوٰة الجنائز، مطلب فی دفن المیت ، بدائع الصنائع : ۲/۶۳، کتاب الصلوٰة، صلوٰة الجنازة، فصل فی الدفن ، الاختیار لتعلیل المختار:۱/۳۲۰، فصل فی حمله واسیر بلا دفنه)
ما فی ” الأشباه والنظائر“ : الضرورات تبیح المحظورات ۔ (۱/۳۰۷) (مراقی الفلاح مع الطحطاوي:ص۲۲۲، فصل فی حملها ودفنها، فتاوی النوازل للإمام الفقیه أبی اللیث السمرقندی:ص۱۲۳، فتاوی محمودیه: ۹/۹۷، باب غسل المیت والصلوٰة علیه ، موسوعة الفقه الإسلامی :۲/۷۷۶، کتاب الجنائز، دفن المیت)
