زکوٰة کی ادائیگی روپیہ پیسہ اور سونا چاندی سے کرنا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولا سونے کے زیورات ہیں، جن کی مالیت مثلاً فی تولہ 17200 / کے اعتبار سے 129000/ ہوتی ہے، اور اس پر واجب ہونے والی زکوٰة کی مقدار 3225/ ہوتی ہے، اور اگر اس میں بناوٹ کی قیمت فی تولہ 200/ کو ملاتے ہیں، تو ان زیورات کی مالیت 1,30500/ہوگی، اوراس پر واجب ہونے والی زکوٰة کی مقدار 3262/ روپئے 5/ پیسے ہوگی، اب سوال یہ ہے کہ ان دو مالیتوں (مالیت باجرت صنعت، اور مالیت بدونِ اجرت صنعت) میں سے ادائیگی ٴ زکوٰة میں کس کا اعتبار ہوگا؟… تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر زکوٰة عین سونا یا عین چاندی سے ادا کی جارہی ہو، تو ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کا چالیسواں حصہ زکوٰة میں ادا کردے، یا اس چالیسویں حصے کی جو قیمت بھی بنتی ہو وہ ادا کردے۔

اور اگر زکوٰة میں عین سونا یا عین چاندی کا چالیسواں حصہ یا اس کی قیمت ادا نہ کی جارہی ہو، بلکہ سونا یا چاندی کے زیور کی قیمت کو بنیاد بناکر زکوٰة روپیوں سے ادا کی جارہی ہو، تو اس صورت میں محض زیورات میں لگی ہوئی سونا یا چاندی کی مقدار کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ مارکیٹ میں اس زیور کی قیمت کتنی ہے، اس کے اعتبار سے زکوٰة ادا کی جائے گی، اور اس صورت میں سونا یا چاندی کی مقدار کے ساتھ زیور کی صنعت میں لگی ہوئی رقم پر بھی زکوٰة کا وجوب ہوگا، اور اس کی بھی زکوٰة ادا کی جائے گی ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختارمع الشامیة “: والمعتبر وزنهما اداءً ووجوباً ولاقیمتهما۔در مختار۔قوله:(والمعتبروزنهما أداءً)یعني یعتبر أن یکون الموٴدّی قدر الواجب وزناً عند الإمام والثانی، قوله: (لا قیمتهما)هذا إن لم یؤد من خلاف الجنس،وإلا اعتبرت القیمة إجماعاً، وأجمعوا أنه لو أدی من خلاف جنسه اعتبرت القیمة۔(۲۰۹/۳،باب زکاة المال)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ویعتبر أن یکون الموٴدّی قدر الواجب وزناً، ولا یعتبر فیه القیمة۔۔۔۔۔۔ ولو کان له إبریق فضة وزنه مائتان وقیمته لصیاغته ثلثمائة إن أدی من العین یوٴد ربع عشرة وهو خمسة قیمتها سبعة ونصف، وإن أدی خمسة جاز، ولو أدی من خلاف جنسه یعتبر القیمة بالإجماع ۔

(۱۷۸/۱، الباب الثالث فی زکاة الذهب والفضة ، تبیین الحقائق :۷۴/۲، باب زکاة المال، البحر الرائق :۳۹۵/۲)

(فتاوی دار العلوم :۱۲۶/۶، فتاوی عثمانی :۶۶/۲، فتاوی محمودیه: ۳۷۸/۹، فتاوی رحیمیه :۱۵۶/۷)

اوپر تک سکرول کریں۔