مسئلہ:
بعض لوگ یوں خیال کرتے ہیں کہ جو مال جس وقت ملکیت میں آئے، اسی وقت سے اس کا سال شروع ہوتا ہے، اور وہ ہر مال کا الگ الگ سال شمار کرتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو مال سال بھر ان کی ملکیت میں رکھا رہا، اور کسی وقت بھی ملکیت سے نہیں نکلا، اسی پر زکوٰة واجب ہوتی ہے، جبکہ یہ دونوں خیالات صحیح نہیں ہیں، کیوں کہ جب کوئی شخص ایک مرتبہ مال کی وجہ سے صاحب نصاب بن جاتا ہے، تو سال پورا ہونے سے پہلے جو بھی قابلِ زکوٰة مال اس کی ملک میں آتا ہے، سال کے پورا ہونے پر تمام قابل زکوٰة موجود مالوں کی زکوٰة کا ادا کرنا اس پر لازم ہوتا ہے، خواہ کوئی مال سال پورا ہونے سے ایک مہینہ یا دس دن، یا محض ایک دن پہلے ہی اس کی ملکیت میں آیا ہو ۔
الحجة علی ما قلنا:
ما فی” التجرید“: قال أصحابنا : المستفاد فی خلال الحول من جنس النصاب یضم إلیه ویزکی بالحول، لنا: قوله علیه الصلاة والسلام: فی خمس وعشرین إلی خمس وثلاثین بنت مخاض وإذا زادت واحدة ففیها بنت لبون، ولم یفصل بین الزیادة فی أول الحول أو وسطه، وروی جابر بن زید أن النبی ﷺ قال: اعملوا من السنة شهراً تؤدون فیه زکوٰة أموالکم، فما حدث من مال بعد فلا زکوٰة فیه حتی یجئ رأس السنة، وهذا یقتضی سنة معروفة، وهی التی أعلمها ولأنها زیادة فی الحول علی نصاب من جنسه فوجب أن یکون حوله حول الأصل إذا لم یکن له بدل مزکی۔(۱۱۶۶/۳، کتاب الزکوٰة، رقم المسئلة:۳۰۴، المستفاد فی خلال الحول من جنس النصاب)
ما فی ” بدائع الصنائع “ : المستفاد فی الحول إن کان من جنس الأصل، ۔۔۔۔۔۔ فإن کان متفرعاً من الأصل أو حاصلا بسببه یضم إلی الأصل ویزکی بحول الأصل بالإجماع، وإن لم یکن متفرعاً من الأصل ولا حاصلاً بسببه فإنه یضم إلی الأصل عندنا ۔
(۹۶/۲ کتاب الزکوٰة، ما یشترط له الحول من الأموال، مراقي الفلاح: ص:۲۶۲، کتاب الزکاة ، مجمع الأنهر:۳۰۷/۱، باب زکاة الذهب والفضة والعروض، الفتاوی الهندیة:۱۷۵/۱، کتاب الزکاة، تبیین الحقائق:۶۲/۲، الدر المختار:۱۹۷/۳، باب زکاة الغنم)
(فتاوی محمودیه :۳۳۹/۹)
