مسئلہ:اگر کسی شخص نے بھینس یا گائے کا فارم بنایا، تاکہ ان سے حاصل ہونے والا دودھ فروخت کرے گا، تو اس صورت میں بھینس اور گائے کی مالیت پر زکوٰة واجب نہیں ہوگی، کیوں کہ یہ سائمہ جانور نہیں ہیں(۱)، البتہ دودھ فروخت کرنے کے بعد جو آمدنی حاصل ہوگی اگر وہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے، تو سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰة واجب ہوگی۔(۲)
الحجة علی ما قلنا:
(۱) ما فی” البحر الرائق “:قوله: (ولا فی العلوفة والعوامل) للحدیث: ” لیس فی الحوامل والعوامل والعلوفة صدقة “۔ ولأن السبب هو المال النامی ودلیله الأسامة أو الأعداد للتجارة ولم یوجدا، ولأن فی العلوفة تتراکم الموٴنة فینعدم النماء معنیً۔(۳۸۱/۲، کتاب الزکوٰٰة، فصل فی الغنم)
ما فی” الدر المختار مع الشامي“: ولا فی عوامل وعلوفة ما لم تکن العلوفة للتجارة۔(۱۹۱/۱۔۱۹۲، کتاب الزکاة، باب زکاة الغنم، مجمع الأنهر:۲۹۹/۱، کتاب الزکاة)
(۲)ما فی” الدر المختار مع الشامي“ : (وسببه) أی سبب افتراضها (ملک نصاب حولي)۔(۱۶۳/۳، کتاب الزکاة، البحر الرائق :۳۵۵/۲، کتاب الزکاة)
