مسئلہ:
مزارعت یعنی بٹائی پر لگائی گئی زمین کی پیداوار کا عشر یا نصف عشر مالک زمین اور کاشتکار اپنے اپنے حصہ کا ادا کریں گے، اس میں یہ بھی گنجائش ہے کہ مجموعی پیداوار سے مشترکہ طور پر عشر یا نصفِ عشر ادا کیا جائے، یا تقسیم کے بعد ہر ایک اپنے اپنے حصہ کی آمدنی سے ادا کرے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفی المزارعة إن کان البذر من رب الأرض فعلیه، ولو من العامل فعلیهما بالحصة ۔ درمختار۔ قال العلامة ابن عابدین : ما ذکره من التفصیل یخالفه فی البحر والمجتبی والمعراج والسراج والحقائق والظهیریة وغیرهما من أن العشر علی رب الأرض عنده علیهما عندهما من غیر ذکر هذا التفصیل، وهو الظاهر لما فی البدائع من أن المزارعة جائزة عندهما، والعشر یجب فی الخارج، والخارج بینهما فیجب العشر علیهما۔
(۲۵۲/۳، کتاب الزکوٰة، مطلب هل العشر علی المزارعین، الهندیة : ۱۸۷/۱، الباب السادس فی زکوٰة الزروع والثمار، البحر الرائق : ۴۱۳/۲، باب العشر)
(فتاوی دار العلوم :۱۸۱/۳۔۱۹۲، کتاب الفتاوی :۳۴۹/۳)
