مسئلہ:
عام طور پر واعظ حضرات یوم عاشوراء میں اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت وفراخی کرنے کی بابت یہ حدیث بیان کرتے ہیں، کہ جس نے یوم عاشوراء کو اپنے بال بچوں پر کھانے پینے کی وسعت کی، تو خدائے پاک پورے سال روزی میں اضافہ کریں گے، جیسا کہ طبرانی نے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔(۱)
اسی حدیث کو بنیاد بناکر صاحب در مختار اور علامہ شامی وغیرہ نے اس دن بال بچوں پر خرچ کرنے میں فراخی کو مستحب قرار دیا ہے، علامہ حصکفی اور علامہ شامی نے تو اس حدیث کو صحیح بھی کہا ہے(۲)، لیکن محقق علماء کے نزدیک اس حدیث کی صحت میں کلام ہے۔
ابوحاتم نے اسناد حدیثِ ابی سعید خدری میں محمد بن اسماعیل جعفری کو ”منکر“، اور اسناد حدیثِ ابن مسعود میں ہیصم کو ”ضعیف جداً “ کہا ہے۔(۳) عقیلی نے ہیصم کو مجہول اور حدیث کو ”غیر محفوظ“ کہا ہے،علامہ ابن حجرنے امالی میں ہیصم کے ضعف پر علماء جرح وتعدیل کا اتفاق نقل فرمایا ہے، علامہ بیہقی نے اس حدیث کے موضع اسناد کے بارے میں کہا:”کلها ضعیفة“ ، ابن رجب نے فرمایا کہ اس کی اسناد غیر صحیح ہے۔(۴)
اس لیے اس حدیث سے محرم کی دسویں تاریخ کو اپنے اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کا استحباب ثابت کرنا محل نظر ہے، تاہم سارے سال اپنے اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی نہ صرف مباح بلکہ باعث اجرو وثواب ہے، اور یوم عاشوراء سال کے تمام دنوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس میں بھی توسع مباح ہے، خصوصاً جبکہ اس دن اہل وعیال روزے سے ہوں، تو ان کی افطاری وکھانے میں توسع، نہ صرف مباح بلکہ یقیناً باعثِ اجرو ثواب ہے، اور یہاں عمل توسع کی بنیاد یہ حدیث نہیں، بلکہ روزہ داروں کا اکرام واعزاز ہے، اور فقہ کا قاعدہ ہے :” الأمور بمقاصدها “۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” المعجم الأوسط للطبرانی “ : أخرجه الطبرانی فی الأوسط قال : حدثنا هاشم بن مرثد حدثنا محمد بن إسماعیل الجعفري، حدثنا عبد الله بن سلمة الربعی عن محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبی صعصعة عن أبیه عن أبی سعید الخدری قال : قال رسول الله ﷺ: ” من وسع علی أهله فی یوم عاشوراء أوسع الله علیه سنته کلها “۔
(۴۳۱/۶، رقم الحدیث: ۹۳۰۲، کنز العمال : ۱۴۳/۱۲، شعب الإیمان للبیهقي: ۳۶۵/۳)
ما فی ” المعجم الکبیر للطبرانی “ : أخرجه الطبرانی فی الکبیر، حدثنا عبد الوارث بن إبراهیم أبوعبیدة العسکری، حدثنا علی بن أبی طالب البزاز، حدثنا الهیصم بن شداخ عن الأعمش عن إبراهیم عن علقمة عن عبد الله بن مسعود قال :” من وسع علی عیاله یوم عاشوراء لم یزل فی سعة سائر السنة “۔(۷۷/۱۰، رقم الحدیث: ۱۰۰۰۷)
(۲) ما فی” الدر المختار مع الشامیة “ : وحدیث التوسعة علی العیال یوم عاشوراء صحیح ۔ درمختار۔ قال الشامی : قوله : (وحدیث التوسعة) وهو ” من وسع علی عیاله یوم عاشوراء وسع الله علیه السنة کلها “۔ فرواه الثقاة، وحدیث التوسعة ثابت صحیح۔(۳۵۵/۳، مطلب فی حدیث التوسعة)
(۳) ما فی ” مجمع الزوائد “ : فی إسناد حدیث أبي سعید محمد بن إسماعیل الجعفری قال أبوحاتم: منکر، وفی إسناد حدیث ابن مسعود الهیصم بن شداخ وهو ضعیف جداً۔
(۳۳۰/۳، باب التوسعة علی العیال یوم عاشوراء)
(۴) ما فی” شعب الإیمان للبیهقي“ : قال البیهقي : فی حدیث ابن مسعود تفرد به هیصم عن الأعمش، وفی حدیث جابر هذا إسناد ضعیف۔(۳۶۵/۳)
ما فی ” فیض القدیر للمناوی “ : قال العقیلی : الهیصم مجهول والحدیث غیر محفوظ، ثم قال : تفرد به هیصم عن الأعمش ، وقال ابن حجر فی أمالیه : اتفقوا علی ضعف الهیصم وعلی تفرده به، وقال البیهقی : فی موضع أسانیده کلها ضعیفة ، وقال ابن رجب فی اللطائف: لا یصح إسناده۔
(۲۳۶/۶، رقم الحدیث: ۹۰۷۵، کتاب الموضوعات: ۱۱۵/۲، باب فی ذکر عاشوراء، تنزیه الشریعة المرفوعة عن الأحادیث الشنیعة :۱۵۷/۲، رقم الحدیث:۳۳، الیواقیت الغالیة فی تحقیق وتخریج الأحادیث العالیة :۳۲۶/۱، قاموس البدع للألباني:ص۶۶۶)
(امداد الفتاوی :۲۸۹/۵)
