مسئلہ:
جو حج جمعہ کو ہوتا ہے عام لوگ اسے حجِ اکبری کہتے ہیں، جبکہ قرآن کریم میں حج اکبر کا لفظ عمرہ کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے، یعنی عمرہ حجِ اصغر اور حج ،حجِ اکبر ہے، یہی قول امام زہری ، اما شعبی اور حضرت عطاء رحمہم اللہ کا ہے ۔(۱)
باقی رہا یہ کہ جس حج میں وقوف عرفہ جمعہ کے دن ہو، وہ فضیلت میں اس حج سے ستر گنا زیادہ ہے جس کا وقوف عرفہ غیر جمعہ میں ہو، اس طرح کی روایت بعض معتبر کتابوں میں ملتی ہے، جیسے ”نور الایضاح“(۲) اور ”در مختار“ ۔
لیکن علامہ شامیؒ نے مناویؒ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ بعض حفاظ حدیث نے اس حدیث کو بے بنیاد اور باطل کہا ہے۔(۳)
اسی طرح علامہ ابن قیم جوزیؒ فرماتے ہیں کہ جو بات عام لوگوں کی زبان زد ہے کہ جو حج جمعہ کے دن ہو ، وہ غیر جمعہ میں ہونے والے بہترّ حج کے برابر ہے، یہ باطل اور بے بنیاد ہے، اس کا آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب وتابعین میں سے کسی سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔(۴)
نیز شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے اس طرح کی کوئی روایت وارد نہیں ہے۔(۵)
البتہ اتنی بات تو کہی جاسکتی ہے کہ جو حج جمعہ کو ہو اس میں کئی اعتبار سے خیر ہے، مثلاً:
۱…..آپ ﷺ نے جو حج فرمایا تھا وہ بھی جمعہ کو ہوا تھا ۔
۲…..جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ بندہ اس گھڑی میں جو بھی دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے ۔
۳…..یوم عرفہ عید ہے اور یوم جمعہ بھی عید ہے، جب دو عیدیں جمع ہوگئیں تو اس میں خیر ہے۔(۶)
خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ جمعہ کے دن حج کی فضیلت تو ہے، مگر اس کو حج اکبری کہنا معتبر وصحیح نہیں ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی” الشامیة “ : وقال الزهری والشعبی وعطاء : الأکبر الحج ، والأصغر العمرة ۔(۴۲/۴، کتاب الحج، مطلب فی الحج الأکبر)
(۲) ما فی ” الشامیة “ : وقد صح عن رسول الله ﷺ أنه قال : أفضل الأیام یوم عرفة، إذا وافق جمعة وهو أفضل من سبعین حجة فی غیر جمعة۔
(۴۲/۴، کتاب الحج، مطلب فی وقفة الجمعة)
(۳) ما في ” الشامیة “ :قال ابن عابدین الشامیؒ : لکن نقل المناوی عن بعض الحفاظ أن هذا حدیث باطل لا أصل له ۔
(۴۲/۴، کتاب الحج، مطلب فی وقفة الجمعة، فیض القدیر للشیخ عبد الرؤف المناوی:۲۸/۲)
(۴) ما فی” اتحاف السادة المتقین للزبیدی “ : وأما ما استفاض علی ألسنة العوام أنها تعدل ثنتین وسبعین حجة فباطل لا أصل له عن رسول الله ﷺ ، ولا من أخذ من الصحابة والتابعین ۔ (۲۷۴/۴، زاد المعاد: ۶۵/۱)
(۵) فتاوی اللجنة الدائمة :۲۱۰/۱۱۔۲۱۱) (نیزدیکھئے: www.maktaba.org/vb.)
(۶) ما فی ” فیض القدیر للمناوي “ : یوم الجمعة : لما له من الفضائل التی لم تجتمع لغیره فمنها أن فیه ساعة محققة الإجابة ، ومواقفته یوم وقفة المصطفی ﷺ واجتماع الخلائق فیه في الأقطار للخطبة والصلاة ، ولأنه یوم عید کما فی الخبر لموافقته یوم الجمع الأکبر والموقف الأعظم یوم القیامة ۔ (۲۸/۲، مکتبة دار المعرفة بیروت ، لبنان)
(فتاوی رحیمیه :۳۱/۸)
