دعوتِ ولیمہ کب تک مسنون ہے؟

مسئلہ:

ولیمہ کی دعوت اجتماعِ زوجین کے بعد کھلائی جاتی ہے(۱)، جس میں پڑوسی، دوست واقارب اور علماء وفقراء کو جمع کرکے خلوص نیت کے ساتھ، حسب حیثیت جانور ذبح کرکے یا کچھ کھانا پکاکر کھلاتے ہیں، دعوتِ ولیمہ کی مدت کے سلسلہ میں فقہائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ اس کی مدت اجتماعِ زوجین کے بعد دو دن ہے، اس کے بعد کی دعوت کو دعوتِ ولیمہ نہیں کہا جائے گا(۲)، کیوں کہ آپ ﷺ نے اگلے دن ولیمہ کو حق، دوسرے دن درست، اور تیسرے دن ریاکاری قرار دیا ہے۔(۳)

اب رہی یہ بات کہ کیا مسلسل دودن یا اس سے زیادہ دنوں تک دعوتِ ولیمہ کا اہتمام وتکرار درست ہے؟ تو اس سلسلہ میں علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ اگر جذبہٴ تفاخر نہ ہو، یا لوگ زیادہ اور مکان چھوٹاہو، جس کی وجہ سے ایک ہی دن میں تمام لوگوں کو کھلانا ممکن نہ ہو، دوسرے روز یا تیسرے روز کے شرکاء دعوت، پہلے اور دوسرے روز کے شرکاء کے علاوہ ہوں، تو دو دن سے زیادہ دعوت ولیمہ کا اہتمام وتکرار جائز ہے(۴)، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے بیان کے مطابق آپ ﷺ نے حضرتِ صفیہؓ سے نکاح کے موقع پر تین دنوں تک ولیمہ فرمایا ہے۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” فیض الباری “ : الولیمة طعام العرس۔۔۔۔۔۔۔۔ السنة فی الولیمة تکون بعد البناء ، وطعام ما قبل البناء لا یقال له ولیمة عربیة۔(۵۴۳/۵، باب الولیمة حق)

(۲) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وولیمة العرس سنة، وفیها مثوبة عظیمة، وهی إذا بنی الرجل بامرأته ینبغی أن یدعو الجیران والأقرباء والأصدقاء ویدع لهم ویضع لهم طعاماً، لابأس بأن یدعو یومئذٍ من الغد وبعد الغد، ثم ینقطع العرس والولیمة، کذا فی الظهیریة ۔ (۳۴۳/۵)

ما فی ” اعلاء السنن “ : إذا صنعت الولیمة أکثر من یوم جاز، وإذا دعی فی الیوم وجبت الإجابة، وفی الیوم الثانی تستحب ، وفی الیوم الثالث لا تستحب ۔

(۲۰/۱۱، باب جواز الولیمة إلی أیام إن لم یکن فخراً)

(۳) ما فی ” عمدة القاری “ : الولیمة فی أول یوم حق، وفی الثانی معروف، وفی الثالث ریاء وسمعة ۔ (۲۱۶/۲۰)

(۴) ما فی ” إعلاء السنن “ : قال العمرانی : إنما تکره إذا کان المدعو فی الثالث هو المدعو فی الأول، لأن إطلاق کونه ریاء وسمعة یشعر بأن ذلک صنع للمباهاة إذا کثر الناس فدعا فی کل یوم فرقة لم یکن فی ذلک مباهاة غالباً ، وفیه أیضاً : وإذا حملنا الأمر فی کراهة الثالث علی ما إذا کان هناک ریاء وسمعة ومباهاة ،کان الرابع وما بعده کذلک ، فیمکن حمل ما وقع من السلف من الزیادة علی الیومین عند الأمن من ذلک، وإنما أطلق ذلک علی الثالث لکونه الغالب ۔(۱۸/۱۱)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : ویکره تکرار الدعوة للسبب الواحد ولو ولیمة ، قالوا إلا أن یکون المدعو ثانیاً غیر المدعو أولا، وإن کان تکرارها لضیق منزل أو لأنه أراد أن یدعو جنسا بعد جنس فلا کراهة۔ (۳۳۷/۲۰)

(۵) ما فی ” إعلاء السنن “ : عن أنس قال : ” تزوج صفیة وجعل عتقها صداقها وجعل الولیمة ثلاثة أیام “۔ (۱۷/۱۱)

(فتاوی رحیمیه: ۲۴۰/۸، فتاوی حقانیة:۴۲۸/۴، حلال وحرام :ص۲۶۹)

اوپر تک سکرول کریں۔