مسئلہ:
کفارہٴ ظہار اور کفارہٴ افطار کے درمیان فرق یہ ہے کہ جب کفارہٴ ظہار روزوں کے ذریعہ ادا کیا جائے، تو جب تک دو مہینے کے روزے مکمل نہیں ہوتے، اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا درست نہیں ہے، خواہ دن میں ہو یا رات میں، عمداً ہو یا نسیاناً، اور اگر کر لیا تو از سر نو دو مہینے لگاتار روزے رکھنے ہوں گے، جبکہ کفارہٴ افطار جب روزوں کے ذریعہ سے ادا کیا جائے تو شب میں ازدواجی تعلقات قائم کرنا درست ہے، خواہ عمداً ہو یا نسیاناً، اسی طرح دن میں بھول کر کرلیا تو از سر نو دو مہینے کے روزے نہیں رکھنے ہوں گے(۱)، البتہ جان بوجھ کر کر لیا تو رکھنے ہوں گے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامي“:إن أفطر بعذر أو بغیره أو وطئها أی المظاهر منها فیهما أی الشهرین مطلقاً، لیلاً أو نهاراً، عامداً أو ناسیاً، کما فی المختار، استأنف الصوم ۔ ” الدر المختار“۔ قال الشامی : الشبیه إشارة إلی أنه لا یلزم کونها مثلها من کل وجه، فإن المسیس فی أثنائها یقطع التتابع فی کفارة الظهار مطلقاً، عمداً أو نسیاناً، لیلاً أو نهاراً، للآیة، بخلاف کفارة الصوم والقتل فیه فإنه لا یقطعه فیهما إلا بعذر أو بغیر عذر فتأمل، فقد زلت بعض الأقدام فی هذا المقام، والحاصل أنه لا یقطع التتابع هنا الوطء لیلاً عمداً أو نهاراً ناسیاً، بخلاف کفارة الظهار۔
(۱۱۲/۵ ، کتاب الطلاق ، باب الکفارة، ۳۴۸/۳، کتاب الصوم، مطلب فی الکفارة، بدائع الصنائع :۲۷۴/۴، کتاب الکفارات،کفارة الظهار، الفتاوی الهندیة :۵۱۲/۱، البحر الرائق : ۱۷۸/۴، کتاب الطلاق، فصل فی الکفارة)
(۲) ما فی”الموسوعة الفقهیة “:لا خلاف بین الفقهاء فی وجوب الکفارة علی من جامع فی القبل متعمداً۔ (۵۷/۳۵)
