آبِ زمزم کی خریدو فروخت

مسئلہ:

مکہ مکرمہ سے آبِ زمزم خرید کر لانا، اور بغرضِ نفع وثواب اسے بیچنا (خواہ مشتری مسلم ہو یا کافر) جائز ہے، کیوں کہ وہ متقوم بھی ہے، اور محفوظ کرلینے سے ملک میں بھی داخل ہوجاتا ہے، نیز بلا نکیر زمزم بیچنے کا تعامل ہے، لیکن اگر یہ خریدوفروخت آب زمزم کے احترام میں مخل ہو، تو پھر اس کی خریدو فروخت خلافِ اولیٰ یا مکروہ ہوگی ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : شروط البیع عند الحنفیة أربعة أقسام: شروط الإنعقاد، شروط الصحة، شروط النفاذ، شروط اللزوم ۔

أما شروط الإنعقاد فهی أربعة أنواع : شروط العاقد، شروط الصیغة، شروط المعقود علیه، یشترط فی المعقود علیه خمسة شروط: أن یکون المبیع مالًا، وأن یکون متقوماً، وأن یکون محرزاً، وأن یکون المعقود علیه موجوداً حین التعاقد، وأن یکون مقدور التسلیم حین العقد۔ (۳۳۵۰/۵۔۳۳۵۲)

ما فی ” القواعد والضوابط “ : کل شیٴ لا بأس بالإنتفاع به فلا بأس ببیعه۔(۱۳۹/۲، بحواله موسوعة قواعد الفقهیة : ۴۳۷/۸)

ما فی ” المقاصد الشرعیة “ : إن الذرائع تعد وسائل إلی المقاصد وحکمها حکم مقاصدها من حیث التحریم والوجوب والکراهة والندب والإباحة۔(ص:۴۶)

اوپر تک سکرول کریں۔