پرانے نوٹ کے بدلے نئے نوٹ لینا

مسئلہ:

بعض لوگ عید وغیرہ کے موقع پرعیدی تقسیم کرنے کیلئے پرانے نوٹ کے بدلے، نئے نوٹ زیادہ رقم دے کر حاصل کرتے ہیں، مثلاً ایک ہزار روپئے کے دس والے نئے نوٹ کو ایک ہزار دس یا ایک ہزار بیس روپئے میں لیتے ہیں۔

اسی طرح بعض ہاتھ گاڑی پر مال بیچنے والوں ، یا دوکانداروں کو کھلے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے، تو وہ پان کی دوکان والوں ، یا فقیروں، یا کھلے پیسے فروخت کرنے والوں سے زیادہ رقم دے کر سکّے خریدتے ہیں ۔شرعاً یہ خریدو فروخت سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ قانونی طور پر سکے اور نوٹوں کی قیمت برابر ہے، اگر کسی کو سخت ضرورت پڑ جائے، تو وہ یہ صورت اختیار کرلے کہ دس روپئے کے عوض نو روپئے کے سکے، اور ایک روپئے کے عوض کوئی معمولی قیمت کی چیز، مثلاً چار آنے کی ٹافی، چاکلیٹ وغیرہ لیں، اس طرح دونوں فریق گناہ سے بچ جائیں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” القرآن الکریم “ :﴿یآیها الذین آمنوا لا تأکلوا الربوا أضعافاً مضاعفةً﴾ ۔(آل عمران:۱۳۰)

ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر قال : ” لعن رسول الله ﷺ آکل الربوا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال : هم سواء “۔ (۲۷/۲)

ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة “ : قال: الربا شرعاً فضل خال عن عوض بمعیارٍ شرعی مشروط لأحد المتعاقدین فی المعاوضة۔ ” تنویر “۔ (۳۹۸/۷۔۴۰۱)

ما فی ” الهدایة “ : لا یجوز بیع الجید بالردی ، فما فیه الربوا إلا مثلاً بمثلٍ لاهدار التفاوت فی الوصف ۔ (۶۳/۳)

 (کتاب الفتاوی :۲۵۹/۵، نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے:ص۱۱۰، قرار داد نمبر۲، دوسرا فقہی سمینار دہلی، بتاریخ :۸۔۱۱/ جمادی الاولی، ۱۴۱۰ھ مطابق: ۸۔۱۱/ستمبر، ۱۹۸۹ء)

اوپر تک سکرول کریں۔