مسئلہ:
ہمارے اس علاقے میں مزارعت اور بٹائی کی یہ صورت مروج ہے مثلاً زید کی زمین ہے، وہ بکر سے ایک رقم قرض لیکر اپنی زمین اس کے پاس رہن (گروی) رکھتا ہے، اور بکر زید سے اس کی اسی زمین میں بٹائی کا معاملہ بھی کرتا ہے، کہ زید اپنی اس زمین میں کاشت کرے، جتنے مصارف (اخراجات) ہوں گے بکر اس کو برداشت کرے گا، اور جب کٹ کر تیار ہو جائیگی، تو بکر اس میں سے پہلے اپنے مصارف نکال لیگا، بعد میں جو کچھ بچ جائیگا وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا، جبکہ مزارعت اور بٹائی کی یہ صورت شرعاً ناجائز ہے، کیوں کہ اس میں دو خرابیاں ہیں:
(۱)جس زمین کو گروی رکھا گیا اسی زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا جارہا ہے،جو شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ گروی رکھی ہوئی زمین سے نہ راہن (گروی رکھنے والا) فائدہ اٹھا سکتا ہے، اور نہ مرتہن (جس کے پاس گروی رکھی جائے)۔(۱)
(۲)زمیندار کو جو رقم کاشت کیلئے دی جارہی ہے جو در حقیقت قرض ہے، اس کو فصل کٹنے پر واپس لیا جاتا ہے اور جو فصل بچ گئی وہ قرض خواہ اور قرض دار دونوں کے ما بین تقسیم کرلی جاتی ہے،جبکہ اس طرح کی بٹائی کا معاملہ شرعاً صحیح نہیں ہے(۲)، کیوں کہ یہ قرض خواہ کا اپنے دیئے ہوئے قرض پر سود لینا ہوا، جو شرعاً حرام ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وإن کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتباً فرهان مقبوضة﴾۔(سورة البقرة :۲۸۳)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبوحنیفة وأبویوسف ومحمد والحسن بن زیاد وزفر رحمهم الله: لا یجوز للمرتهن الإنتفاع من الرهن ولا للراهن أیضاً۔ (۶۴۴/۱)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (لا الإنتفاع به مطلقاً) سواء کان من مرتهن أو راهن، ۔۔۔۔۔۔۔۔ لا یحل له أن ینتفع بشئ منه بوجه من الوجوه، وإن أذن له الراهن لأنه أذن له فی الربا لأنه یستوفی دینه کاملاً فتبقی له المنفعة فضلاً فیکون ربا وهذا أمر عظیم۔ (۷۰/۱۰، کتاب الرهن)
(۲) ما فی ” منهاج المسلم للجزائری “ : لو اشترط رب الأرض أخذ بذره من المحصول قبل قسمته وما بقی فهو له وللعامل بحسب ما اشترطاه لم تصح المزارعة۔
(ص: ۳۰۴، دار الغد الجدید)
(۳) ما فی ” فیض القدیر للمناوی “ : ” کل قرض جر منفعة فهو ربا “۔(۲۸/۵، رقم الحدیث:۶۳۳۶)
ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی : رأیت فی جواهر الفتاوی: إذا کان مشروطاً صار قرضاً فیه منفعة وهو ربا۔ (۷۰/۱۰، کتاب الرهن)
(فتاوی محمودیہ :۱۲۰/۲۰۔۱۳۶، أحسن الفتاوی :۴۹۸/۸، فتاوی حقانیہ: ۴۳۱/۶)
