مسئلہ:
ہمارے اس علاقے میں مزارعت اور بٹائی کی یہ صورت بھی مروج ہے، مثلاً: زید کی زمین ہے بکر نے اس سے بٹائی کا معاملہ اس طرح کیا کہ کاشت کے جتنے مصارف (اخراجات) ہوں گے بکر اس کو برداشت کرے گا، او ر فصل کٹ کر تیار ہو جانے پر پہلے بکر اپنے مصارف اس سے نکال لیگا، بعد میں جو کچھ بچ جائیگا وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا، جبکہ مزارعت وبٹائی کی یہ صورت شرعاً ناجائز ہے، اس لئے کہ زید (زمیندار) کو کاشت کیلئے جو رقم دی جارہی ہے وہ در حقیقت قرض ہے، کیوں کہ فصل کٹنے پر وہ پوری رقم واپس لی جاتی ہے، اب بکر کا یہ کہنا کہ فصل کٹنے پر وہ اپنے مصارف نکال لیگا اور اس کے بعد جو کچھ غلہ بچے گا دونوں کے مابین آدھا آدھا تقسیم ہوگا، تو یہ اپنے دیئے ہوئے قرض پر سود لینا ہوا، جو شرعاً حرام ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” فیض القدیر للمناوی “ : ” کل قرض جر منفعة فهو ربا “۔ (۲۸/۵، رقم الحدیث: ۶۳۳۶)
ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی : قلت: والغالب من أحوال الناس أنهم یریدون عند الدفع الإنتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم، وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف کالمشروط، وهو مما یعین المنع۔ (۷۰/۱۰)
ما فی ” منهاج المسلم للشیخ أبی بکر جابر الجزائری “ : لو اشترط رب الأرض أخذ بذره من المحصول قبل قسمته وما بقی فهو له وللعامل بحسب ما اشترطاه لم تصح المزارعة۔
(ص: ۳۰۴)
