مزارعت تین صورتوں میں جائز ہے

مسئلہ:

مزارعت اور بٹائی کا معاملہ ظاہر الروایة کے مطابق صرف تین صورتوں میں جائز ہے:

۱۔۔۔۔۔زمین، بیج ایک کی طرف سے ہو، اور بیل وعمل (محنت) دوسری طرف سے۔

۲۔۔۔۔۔زمین ایک کی طرف سے اور بیل ، بیج اور عمل (محنت)دوسری طرف سے۔

۳۔۔۔۔۔زمین ، بیل اور بیج ایک کی طرف سے اور عمل (محنت) دوسری طرف سے۔(۱)

بشرطیکہ ان میں یہ شرط نہ لگائی گئی ہو کہ کاشتکاری کیلئے روپیہ لگانے والا شخص فصل کٹنے پر پہلے اپنی رقم نکال لے گا، اور بعد میں جو پیداوار بچ جائے گی وہ معاہدے کے مطابق تقسیم ہوگی، کیوں کہ یہ قرض پر سود لینا ہوگا جو شرعاً حرام ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : وکذا صحت لو کان الأرض والبذر لزید، والبقر والعمل لآخر أو الأرض له والباقی للآخر أو العمل له والباقی للآخر فهذه الثلاثة جائزة۔(۳۳۴/۹، کتاب المزارعة)

ما فی ” الهدایة “ : إن کانت الأرض والبذر لواحد والبقر والعمل لواحد جازت المزارعة، لأن البقر آلة العمل، وإن کان الأرض لواحد، والعمل والبقر والبذر لواحد جازت، لأنه استیجار الأرض ببعض معلوم من الخارج، وإن کانت الأرض والبذر والبقر لواحد أو العمل من الآخر جازت، لأنه استأجره للعمل بآلة المستأجر۔

(۴۰۹/۴۔۴۱۰، کتاب المزارعة، البحر الرائق: ۲۸۹/۸، بدائع الصنائع:۲۶۰/۵)

(۲) ما فی ” فیض القدیر للمناوی “ : ” کل قرض جر منفعة فهو ربا “ ۔(۲۸/۵، رقم الحدیث :۶۳۳۶)

(فتاوی محمودیہ :۱۲۵/۲۰۔۱۳۶)

اوپر تک سکرول کریں۔