مسئلہ:
طلباء جامعہ کو ،جامعہ کی طرف سے جو کتابیں سال کے شروع میں پڑھنے کیلئے دی جاتی ہیں، اور سال کے آخر میں ان سے واپس لیجاتی ہیں، وہ ان کی ملکیت نہیں بلکہ عاریت ہے، اور عاریت کے سلسلہ میں اصول یہ ہے کہ اس میں وہی تصرف جائز ہے جس کی عاریت پر دینے والے کی طرف سے اجازت ہو، اگر اس کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو کوئی تصرف جائز نہیں، خواہ مفید ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر آپ کسی سے کتاب لیں، اور اس میں کتابت کی غلطی پائیں، تب بھی آپ کیلئے اسی وقت اصلاح جائز ہے جبکہ اس سے مالکِ کتاب کو ناراضگی نہ ہو،ورنہ اپنے طور پر اصلاح کرنا درست نہیں ،جب کتابت کی غلطی کی اصلاح کے سلسلہ میں یہ حکم ہے، تو عاریت کی کتابوں پر اپنے نام لکھنا، ان پر حواشی چڑھانا اور افتتاح واختتام کتاب کی تاریخ مع تعیینِ ماہ وسن لکھنا کیوں کر جائز ہوسکتا ہے، جبکہ جامعہ کی طرف سے اس کی ممانعت ہے ، اس لئے اس سے احتیاط برتیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” حاشیة قرة عیون الأخیار تکملة الشامیة علی الدرالمختار“ : استعار کتابا فوجد به خطأ أصلحه ، إن علم رضا صاحبه ۔ ” در مختار “۔ قوله : (إن علم رضا صاحبه) فإن علم عدم رضاه ینبغی أن لا یصلحه لأنه تصرف فی ملک الغیر بغیر إذنه ۔ (۵۵۴/۱۲،کتاب العاریة)
ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : بقاعدة فقهیة : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنه ۔ (۹۶/۱، المادة : ۹۶)
