مسئلہ:
سستی اور بغیر کسی عذر کے ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے ،جیسا کہ آج کل کے بعض فیشن ایبل حضرات کا وطیرہ ہے ،البتہ عذر اورتذلل ( اپنے آپ کو حقیر سمجھنا) کے طور پرننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : قال الحصکفي رحمه الله : (وصلوته حاسرًا) أي کاشفًا (رأسه للتکاسل) ولا بأس به للتذلل وأما للإھانة بھا فکفر ۔
(۴۰۷/۲، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مطلب في الخشوع)
(فتاویٰ حقانیہ :۲۱۳/۳)
