مسئلہ:
بلا ضرورت مسجد میں کھانا پینا اور سونا مکروہ ہے، البتہ مسافر اور معتکف کیلئے مسجد میں کھانے، پینے اور سونے کی گنجائش ہے، اسی طرح کسی شخص کو ایسی دینی ضرورت لاحق ہو، جو مسجد میں سوئے بغیر حاصل نہ ہوسکتی ہو، مثلاً نماز باجماعت کی پابندی نصیب ہوتی ہو، یا تہجد کی توفیق ہوتی ہو، یا مسجد کی حفاظت مقصود ہو، تو اس کیلئے بھی مسجد میں سونے کی اجازت و گنجائش ہے، بعض صحابہٴ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین بھی دینی ضرورت کیلئے مسجد میں سوتے تھے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” صحیح البخاری “ : عن عبید الله قال: حدثنی نافع، قال: أخبرنی عبد الله بن عمر أنه کان ینام وهو شاب أعزب لا أهل له فی مسجد النبی ﷺ ۔
(۶۳/۱، کتاب الصلاة، باب نوم الرجال فی المسجد)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ویکره النوم والأکل فیه لغیر المعتکف ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا بأس للغریب أن ینام فی المسجد فی الصحیح ۔
(۳۲۱/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس فی آداب المساجد، حلبی کبیر: ص۶۱۲، فصل فی آداب المسجد، الدر المختار مع الشامیة:۴۳۵/۲، کتاب الصلاة)
(فتاوی محمودیه :۲۳۱/۱۵۔۲۳۳)
