مسئلہ:
جب کسی جگہ مسجد شرعی بنادی جائے، اور وہاں اذان وجماعت ہورہی ہو ، تو کسی مصلحت کی وجہ سے اس مسجد کو مدرسہ میں تبدیل کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، کیوں کہ وہ ہمیشہ ہمیش کیلئے مسجد بن گئی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو خرب ما حوله واستغنی عنه یبقی مسجداً عند الإمام والثانی أبداً إلی قیام الساعة وبه یفتی۔ حاوی القدسی۔ ” الدر المختار “۔ وفی الشامی : قوله : (عند الإمام والثانی) فلا یعود میراثاً ولا یجوز نقله ونقل ماله إلی مسجد آخر، سواء کانوا یصلون فیه أو لا، وهو الفتوی ۔ حاوی القدسی ۔ وأکثر المشائخ علیه۔ مجتبی۔ وهو الأوجه ۔ فتح ۔ اھ۔ بحر ۔ (۵۴۸/۶، الفتاوی الهندیة: ۴۵۸/۲)
(فتاوی محمودیه :۵۹۴/۱۴)
