مسئلہ:
اگرکوئی شخص میدان یا بڑی مسجد ( جس کارقبہ”۴۵۱ء۳۳۴“ مربع میٹر ہو) میں نماز پڑھ رہا ہو تو دوصف ،یعنی تقریباً آٹھ فٹ چھوڑ کر اس کے آگے سے گزرناجائز ہے ،اور چھوٹی مسجد (جس کا رقبہ بڑی مسجد کے بیان کردہ رقبہ سے کم ہو)میں مطلقاً گزرنے کی اجا زت نہیں ہے ،اگر گزرے گا توگنہگار ہوگا، البتہ جوشخص نمازی کے با لکل سامنے بیٹھا ہو، تو اس کو اٹھ کرجانے کی اجازت ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ومرور مارٍّ في الصحراء أو في مسجد کبیر بموضع سجوده في الأصح (أو) مروره (بین یدیه) إلی حائط القبلة (في) بیت و (مسجد) صغیر فإنه کبقعة واحدة (مطلقاً) ولو امرأة أوکلبًا ۔ التنویر وشرحه ۔ وفي الشامیة : قوله : (في الأصح) هو ما اختاره شمس الأیمة وقاضي خان، وصاحب الھدایة ، واستحسنه في المحیط ، وصححه الزیلعي ۔
(۳۹۸/۲، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مطلب إذا قرأ قوله تعالی جدک بدون ألف لا تفسد ، تبیین الحقائق :۴۰۱/۱، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، الفتاویٰ الھند یة :۱۰۴/۱، کتاب الصلاة ، الباب السابع فیما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، الفصل الأول ، منع المارّ بین یدي المصلي)
(احسن الفتاویٰ:۴۰۹/۳)
