کیا حرم شریف میں تصویر کشی کرنا درست ہے؟

مسئلہ:

حرم کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر کشی کرنا، جس میں جانداروں کی تصویریں بھی لی جائیں، ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ آپ ﷺ نے تصویر کشی کرنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں(۱)، نیز اس سے حرمات اللہ کی توہین لازم آتی ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے حرمات اللہ کی تعظیم کا حکم دیا ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” صحیح البخاری “ : ” إن أشد الناس عذاباً عند الله المصورون“۔(۸۸۰/۲، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامة)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا تمثال إنسان أو طیر۔” الدر المختار“۔ قوله: (أو طیر) لحرمة تصویر ذي الروح۔ (۵۱۹/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی اللبس)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : یحرم تصویر ذوات الأرواح مطلقاً، أی سواء أکان للصورة ظل أو لم یکن، وهو مذهب الحنفیة والشافعیة والحنابلة۔ (۱۰۳/۱۲، تصویر)

(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ومن یعظم حرمات الله فهو خیر له عند ربه﴾ ۔ (سورة الحج :۳۰)

ما فی ” تفسیر ابن کثیر“ : ﴿ومن یعظم حرمات الله﴾ أي ومن یجتنب معاصیه ومحارمه۔ (۵۴۱/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔