مکان دوکان یا سفر کی حالت میں گاڑی میں تلاوت قرآن پاک سننا

مسئلہ:

مکان ، دکان یا بحالت سفر گاڑی میں تلاوتِ قرآن پاک کو سننا نہ صرف جائز بلکہ باعث اجرو ثواب ہے(۱)، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ٹیپ ریکارڈ کا سِویچ (Switch of the Teprecorder) آن (On) کرکے لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں، اور بعض جگہوں پر تو مجلس یا محفل کے لوگوں کو جوڑنے وجمع کرنے کیلئے قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے، کہ مجمع جڑ جائے، اور اس کے بعد کسی واعظ یا مقرر کی تقریر ہو ، جبکہ قرآن کریم کی تلاوت استماع (خوب غور سے سننے) کے لیے ہے، نہ کہ اجماع (لوگوں کو جمع کرنے )کے لیے، تو ان مذکورہ حالتوں میں تلاوت قرآن کریم بجائے ثواب کے موجب گناہ ہوگی(۲)،لہذا جب بھی تلاوت قرآن کریم ہورہی ہو تو اسے خوب غور سے سنا جائے، ورنہ ٹیپ ریکارڈ وغیرہ کا سویچ بند کردیں، تاکہ گناہ لازم نہ آئے۔

الحجة علی ما قلنا:

(۱) ما فی” المسند للإمام أحمد بن حنبل “:عن أبی هریرة رضی الله تعالی عنه أن رسول الله ﷺ قال: ” من استمع إلی آیة من کتاب الله تعالی کتب له حسنة مضاعفة ، ومن تلاها کانت له نوراً یوم القیامة “ ۔(۳۳۰/۸، کتاب العلم، رقم الحدیث: ۸۴۷۵)

(۲) ما فی ” القرآن الکریم “:﴿وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلکم ترحمون﴾۔(سورة الأعراف:۲۰۴)

ما فی ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال النقاش : أجمع أهل التفسیر أن هذا الاستماع فی الصلاة المکتوبة وغیر المکتوبة۔ (۳۵۴/۷، سورة الأعراف:۲۰۴)

ما فی ” التفسیر الکبیر للرازی“:لا شک أن قوله : ﴿فاستمعوا له وانصتوا﴾ أمره، وظاهر الأمر للوجوب، فمقتضاه أن یکون الاستماع والسکوت واجباً، ۔۔۔۔۔۔ وهو قول الحسن وقول أهل الظاهر، إنا نجری هذه الآیة علی عمومها ففی أي موضع قرأ الإنسان القرآن وجب علی کل أحد استماعه والسکوت، فعلی هذا القول یجب الانصات لعابری الطریق ومعلمی الصبیان۔(۴۳۹/۵، سورة الأعراف:۲۰۴)

(فتاوی بینات:۴۲۱/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔