مجلس ختم قرآن پر دعوت کرانا شرعاً کیسا ہے؟

مسئلہ:

قرآن کریم کو پڑھنا اور اس کو یاد کرنا انتہائی فضیلت وبزرگی والا عمل ہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:” جو شخص قرآن کریم کو پڑھے گا اور اس کو یاد کرے گا، اللہ رب العزت اسے جنت میں داخل فرمائیں گے، اور اس کے گھر والوں میں سے ایسے دس لوگوں کے حق میں اس کی شفاعت وسفارش قبول فرمائیں گے جن پر دوزخ واجب ہوچکی ہوگی“۔(۱)

قرآن کریم کی تکمیلِ حفظ کا موقع، موقعِ مسرت ہے، اس موقع پر شکرانہ کے طور پر احباب ومتعارفین کو دعوت دینا اور غرباء واحباب کو کھانا کھلانا، یہ اس عظیم نعمت کی قدر دانی ہے، ممنوع نہیں ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب سورہٴ بقرہ یاد کی تھی، تو ایک اونٹ ذبح کرکے احباب وغرباء کو کھلادیا تھا۔(۲)

لیکن یہ بات یاد رہے کہ اللہ کے یہاں اخلاص کی قدر ہے(۳)، ریاء وفخر کیلئے جو کام کیا جائے وہ مقبول نہیں ہوتا(۴)، اور نیت کا حال خدا ہی کو معلوم ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ مخفی طور پر غرباء کو ان کی ضرورت کی اشیاء دیدی جائیں، اور بچے نے جہاں ختم کیا، وہاں پڑھنے والے بچوں اور ان کے اساتذہ کو شیرینی وغیرہ دیدی جائے، اور مدرسہ کی امداد کی جائے۔(۵)

طلباء، اساتذہ اور اہل مدرسہ کا، ختم کرنے والے بچہ کے والیان وسرپرستوں سے شیرینی، دعوت وہدیہ، یا امداد کا سوال کرنا درست نہیں ہے۔(۶) کیوں کہ اساتذہ واہل ادارہ نے یہ خدمت خالصةً اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے انجام دی، جس کا اجر وہ خود کل قیامت کے دن انہیں عطا کرے گا ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” السنن لإبن ماجة “ : عن علی بن أبی طالب قال : قال رسول الله ﷺ: ” من قرأ القرآن وحفظه أدخل الله الجنة، وشفعه فی عشرة من أهل بیته، کلهم قد استوجب النار“۔(ص:۱۹، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه)

(۲) ما فی ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي“ : عن نافع عن ابن عمر قال: تعلم عمر البقرة فی اثنتی عشرة سنة فلما ختمها نحر جزوراً۔ (۳۰/۱)

ما فی ” صحیح البخاری “ : عن جابر بن عبد الله : ” أن رسول الله ﷺ لما قدم المدینة نحر جزوراً أو بقرةً “۔ (۴۳۴/۱)

ما في ” أحسن الفتاوی “: وبهذا الحدیث خرج العلماء هذه الضابطة أن الدعوة شرعت فی السرور لا فی الشرور۔ (۳۵۴/۱)

(۳) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وما أمروا إلا لیعبدوا الله مخلصین له الدین﴾۔ (سورة البینة:۵)

ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن أبی هریرةؓ قال : قال رسول الله ﷺ : ” إن الله لا ینظر إلی صورکم وأموالکم ولکن ینظر إلی قلوبکم وأعمالکم“ ۔

(ص:۴۵۴، باب الریاء والسمعة)

(۴) ما فی ” السنن لإبن ماجة “ : عن أبی سعید عن النبی ﷺ قال: ” من یسمع یسمع الله به، ومن یرائي یرائي الله به “ ۔ (ص:۳۱۰، باب الریاء والسمعة)

(۵) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿هل جزاء الإحسان إلا الإحسان﴾ ۔ (الرحمن:۶۰)

ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:” من صنع إلیکم معروفاً فکافئوه، فإن لم تجدوا ما تکافئوا به فادعوا له حتی تروا أنکم قد کافأتموه“۔

(ص:۲۳۵، السنن للنسائی :۲۷۶/۱)

(۶) ما فی ” البحر الرائق “ : قال الحسن بن زیاد: ” السوٴال ذلٌّ “۔(۲۸۶/۱،کتاب الطهارة، باب التیمم)

اوپر تک سکرول کریں۔