کیا مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا مسنون ہے؟

مسئلہ:

مصافحہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے ہو، جیسا کہ عبد اللہ ابن مسعودؓ کی روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے:” کان کفِّي بین کفَّیہ“۔ کہ میری ہتھیلی آپ ﷺ کے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی، حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کی یہ روایت اس بارے میں صریح ہے کہ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا، رہی یہ بات کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ نے صرف اپنی ایک ہتھیلی کا ذکر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی آپ کی ہتھیلی سے ملی ہوئی نہیں تھی بلکہ اس کے پشت پر تھی، اس لیے انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا، ورنہ یہ بات بعید از عقل ہے کہ آپ ﷺتو اپنے دونوں مبارک ہاتھوں سے مصافحہ فرمائیں، اور صحابی ٴ رسول وہ بھی ابن مسعودؓ، صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کریں، نیز اسی روایت سے امام بخاریؒ نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے مسنون ہونے کو ثابت فرمایا ہے

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن سخبرة أبی معمر قال: سمعت ابن مسعود یقول: ” علمنی النبی ﷺ وکفی بین کفیه التشهد کما یعلمنی السورة من القرآن“۔

(۹۲۶/۲،کتاب الاستیذان ، باب الأخذ بالیدین)

ما فی ” فیض الباری “ : التصافح بالیدین حدیث مرفوع أیضاً کما فی الأدب المفرد، وأراد المدرسون أن یستدلوا علیه من حدیث ابن مسعود هذا، فقالوا: أما کون التصافح فیه بالیدین من جهة النبی ﷺ، فالحدیث نص فیه، وأما کونه کذلک من جهة ابن مسعود، فالراوی إن اکتفی بذکر یده الواحدة إلا أن المرجو منه أنه لم یکن لیصافحه بیده الواحدة، والنبی ﷺ قد صافحه بیدیه الکریمتین، فإنه یستبعد من مثله أن لا یبسط یدیه للنبی، وقد بسط محمد له یدیه، غیر أن الراوی لم یذکره لعدم کون غرضه متعلقاً بذلک، ولا ریب أن الرواة یختلفون فی التعبیرات۔(۲۰۴/۶، باب المصافحة)

(فتاوی محمودیه:۱۴۱/۳، فتاوی رحیمیه:۱۲۱/۱۰، کتاب الفتاوی: ۱۲۷/۶)

اوپر تک سکرول کریں۔