موبائل کے ذریعہ نو مولود کے کان میں اذان دینا

مسئلہ:

بچے کے پیدا ہونے پر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا مستحب ہے(۱)، جس کی حکمت یہ ہے کہ دنیا میں آتے ہی اس کے کانوں میں پہلا جو کلمہ پڑے وہ اللہ کی وحدانیت اور نیکی کی جانب پکار کا ہو، اس لیے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دینی چاہیے، بعض لوگ کسی اور شہر یا ملک میں رہتے ہیں، اور جب ان کے یہاں کسی بچے کی ولادت ہوتی ہے، تو ٹیلی فون یا موبائل کے ذریعہ اپنے بچے کے کان میں اذان واقامت کہتے ہیں، جس سے اوپر ذکر کردہ مقصد گرچہ حاصل ہوجاتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ موجود شخص اذان واقامت کہے، کیوں کہ یہی طریقہ آپﷺ سے ماثور ومنقول ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما فی” شعب الإیمان للبیهقی “ : عن ابن عباس : ” أن النبی ﷺ أذن فی أذن الحسن بن علی یوم ولد فأذن فی أذنه الیمنی وأقام فی أذنه الیسری “۔

(۳۹۰/۶، رقم الحدیث :۸۶۲۰)

ما فی ” شعب الإیمان للبیهقی “ : عن الحسین بن علی قال : قال رسول الله ﷺ: ” من ولد له مولود فأذن فی أذنه الیمنی وأقام فی أذنه الیسری رفعت عنه أم الصبیات“۔

(۳۹۰/۲، رقم الحدیث: ۸۶۱۹)

ما فی ” الفقه الأسلامی وأدلته “ : یستحب للوالد أن یؤذن فی أذن المولود الیمنی وتقام الصلاة فی الیسری حین یولد لما روي أبورافع ، أن النبی ﷺ أذن فی أذن الحسن حین ولدته فاطمة۔۔۔۔۔۔۔۔ فیقتصر فی تقدیری علی الأذان الثابت فی حدیث أبی رافع لیکون إعلام المولود بالتوحید أول ما یقرع سمعه عند قدومه إلی الدنیا ولما فیه من طرد الشیطان عنه، فإنه یدبر عنه سماع الأذان ۔

(۲۷۵۰/۴ ، المبحث الثانی، أحکام المولود، الموسوعة الفقهیة الکویتیة: ۳۴۸/۳۹ ، مولود، الشامیة: ۴۶/۲ ، مطلب فی المواضع التی یندب لها الأذان)

(۲) ما فی ” جامع الترمذی “ : عن عبید الله بن أبی رافع عن أبیه قال : ” رأیت رسول الله ﷺ أذن فی أذن الحسن بن علی حین ولدت فاطمة بالصلوة “ ۔

(۲۷۸/۱، أبواب الأضاحي، باب ما جاء فی أذن المولود، السنن لأبی داود: ص۶۹۶، کتاب الأدب، باب فی المولود یؤذن فی أذنه)

(فتاوی محمودیه:۴۵۵/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔