مسجد میں دنیوی باتیں کرنا

مسئلہ:

بلا ضرورت شرعیہ مسجد میں باتیں کرنا سخت گناہ ہے، نیزاس میں مسجد کی بے حرمتی ہے اس لئے یہ عمل مکروہ ہے(۱)، آپ ا کا ارشاد ہے: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گاکہ وہ اپنے دنیوی معاملات کے متعلق مسجدوں میں بیٹھ کر گفتگو کریں گے ،تم ان کی ہم نشینی اختیار نہ کرنا، کیوں کہ جو لوگ مسجد میں دنیوی باتیں کرتے ہیں اللہ رب العزت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے(۲)،نیز حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ میں مسجد میں سورہاتھا، کسی شخص نے مجھے کنکری پھینک ماری ، میں نے دیکھا توحضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، آپ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا :جااور اُن دونوں کو میر ے پاس لے آ، میں ان دونوں کو آپ کی خدمت میں لے آیا تو آپ نے فرمایا :تم کون لوگ ہوں ؟ یافرمایا :تم کہاں کے ہوں؟ انہوں نے عرض کیاہم طائف کے ہیں ، توآپ نے فرمایا :ا گر تم مدینہ کے ہوتے تو میں تمہیں سزادیتا،مسجدِ رسول ا میں اپنی آوازوں کو بلند کرتے ہو۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والکلام المباح ، وقیده في الظهیریة بأن یجلس لأجله ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة : قوله : (بأن یجلس لأجله) فإنه حینئذ لا یباح بالإتفاق ، لأن المساجد ما بني لأمور الدنیا ، وفي صلاة الجلابي : الکلام المباح من حدیث الدنیا یجوز في المساجد ، وإن کان الأولی أن یشتغل بذکر الله تعالی ، کذا في التمرتاشي ۔ هندیة ۔ وقال البیري ما نصه وفي المدارک : ومن الناس من یشتري لهو الحدیث ، المراد بالحدیث : الحدیث المنکر لما جاء ” الحدیث في المسجد یأکل الحسنات کما تأکل البهیمة الحشیش “ ۔(۴۳۶/۲،کتاب الصلاة،باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها،مطلب:في الغرس في المسجد)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن الحسن مرسلا قال : قال رسول الله ﷺ : ” یأتي علی الناس زمان ، یکون حدیثھم في مساجدهم في أمر دنیاھم ، فلا تجالسوھم فلیس للّٰه فیهم حاجة “ ۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان۔ (۷۱/۱)

(۳) ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن السائب بن یزید قال : کنت نائمًا في المسجد فحصبني رجل ، فنظرت فإذا هو عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، فقال : اذهب فأتني بهذین ، فجئته بهما ، فقال : ممن أنتما ؟ أو : من أین أنتما ؟ قالا : من أهل الطائف ، قال : ” لوکنتما من أهل المدینة لأوجعتکما ، ترفعان أصواتکما في مسجد رسول الله ﷺ “ ۔ رواه البخاري ۔(۷۱/۱ ، باب المساجد ومواضع الصلوة)

 

اوپر تک سکرول کریں۔