مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے مسجد میں قرآن خوانی کرانا!

(فتویٰ نمبر: ۱۵۶)

سوال: 

مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے مسجد میں قرآن خوانی کرانا،اور نماز کے بعد قرآن خوانی میں بیٹھنے کے لیے مسجد میں اعلان کرنا جائز ہے یا نہیں؟

نوٹ-:سنی حضرات کہتے ہیں کہ آپ لوگ جو تیسرے دن زیارت کرتے ہیں وہ بدعت ہے، حالانکہ وہ لوگ بھی قرآن خوانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سنت ہے ،شیخ الحدیث اور نائب مہتمم بھی قرآن خوانی رکھتے ہیں اور قبر کے سامنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں ۔

الجواب وباللہ التوفیق:

میت کے ایصالِ ثواب کے لیے جو قرآن خوانی کی جاتی ہے ،اگر اس قرآن خوانی میں رسم ورواج کی پابندی نہ ہو ، برادری، مروّت اور کسی کا دباوٴ نہ ہو، کوئی مخصوص تاریخ اور مخصوص دن کی تعیین نہ ہو، اور دعوت وغیرہ کا التزام واہتمام نہ ہو، تو شرعاً جائز ہے، لیکن ایصالِ ثواب کی بہترین صورت یہ ہے کہ تنہا ہر فردِ متعلق اپنے حضورِ قلب کے اوقات میں قرآن کریم پڑھ کر ایصالِ ثواب کرلیا کرے،کہ یہی طریقہ سلفِ صالحین اور حضراتِ تابعین وغیرہ سے متوارِث ہے۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز”أغلاط العوام ص/۲۱۲“ پر رقم طراز ہیں کہ جس طریق سے آج کل قرآن شریف پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے، یہ صورتِ مروجہ ٹھیک نہیں، ہاں! احبابِ خاص سے کہہ دیا جائے کہ اپنے اپنے مقام پر حسبِ توفیق پڑھ کر ثواب پہنچادیں، اجتماعی قرآن خوانی کے لیے مسجد میں اعلان وغیرہ کرنا شرعاً صحیح معلوم نہیں ہوتا، کیوں کہ اس طرح کے اعلان سے نماز پڑھنے والوں کو تشویش ہوتی ہے ،اور مسجد میں ہر ایسا عمل ممنوع ہے جس سے مصلیوں کو تشویش ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” رد المحتار “ : أجمع العلماء سلفًا وخلفًا علی استحباب ذکر الجماعة في المساجد وغیرها ، إلا أن یشوش جهرهم علی نائم أو مصل أو قاريء ۔ (۳۷۷/۲) فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۴/۱۲/۱۴۲۹ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔