مسجد میمنی کے حوض حکم شرعی

مسئلہ:

دہ دردہ حوض کی تعریف یہ ہے کہ اس کا کل رقبہ یعنی طول وعرض کا حاصلِ ضرب سو ذراع برابر ۲۲۵/اسکوائر فٹ ہو، اس لحاظ سے مسجد میمنی کا حوض دہ دردہ مربع حوض کے حکم میں ہے، کیوں کہ اس کے طول وعرض کا حاصلِ ضرب تقریباً ۳ء۲۲۶/ اسکوائر فٹ ہے، لہذا اگر اس حوض میں کوئی نجاست گر جاوے، تو جب تک اس کے پانی میں نجاست کا کوئی اثر یعنی رنگ، بو اور مزہ ظاہر نہ ہو، وہ پانی پاک ہی رہے گا، اور اس سے وضواور غسل وغیرہ کرنا درست ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الهدایة “ : قدروا بالمساحة عشراً فی عشر بذراع الکرباس توسعة للأمر علی الناس وعلیه الفتویٰ۔ (۳۶/۱)

ما فی ” الدر المختار مع الشامي “ : فلذا أفتی به المتأخرون الأعلام: أی فی المربع بأربعین، وفی المدوّر بستة وثلاثین، وفی المثلث من کل جانب خمسة عشر، وربعاً وخمساً بذراع الکرباس، ولو له طول لا عرض، لکنه یبلغ عشراً فی عشرٍ جاز تیسیراً ۔ الدر المختار ۔(۳۴۱/۱، ۳۴۲، ۳۴۳، کتاب الطهارة، باب المیاه، بیروت)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا ألقی فی الماء الجاري شيء نجس کالجیفة والخمر لا یتنجس ما لم یتغیر لونه أو طعمه أو ریحه، وعند أبی یوسف لا بأس بالوضوء إذا لم یتغیر أحد أوصافه۔(۱۷/۱، البحر الرائق :۱۴۱/۱)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : یجوز التوضؤ فی الحوض الکبیر المنتن إذا لم تعلم نجاسة۔ (۱۸/۱)

ما فی ” الدر المختار “ : یجوز براکد کثیر أی وقع فیه نجس لم یر أثره ولو فی موضع وقوع المرئیة۔ به یفتیٰ ۔ (۳۶/۱)

(کفایت المفتی: ۲۴۵/۲، احسن الفتاوی: ۴۵/۲، روضة الفتاوی: ۳۲۲/۱، فتاوی رحیمیه: ۴۱/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔