ٹرین کی ٹنکی کے پانی کا حکم شرعی

مسئلہ:

ٹرین یعنی ریل گاڑی کی ٹنکی میں جو پانی ہوتا ہے، اگر اس میں اوصافِ ثلاثہ یعنی رنگ ، بو اور مزہ میں سے کوئی وصف نہ بدلاہو تو وہ پانی پاک ہے، اس سے وضو اور غسل کرنا درست وجائز ہے ، طبعی کراہت کی وجہ سے اس کی پاکی میں شبہ نہ کیا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ :وعند أبی یوسف: لا بأس بالوضوء، إذا لم یتغیر أحد أوصافه، کذا فی شرح الوقایة، وفی النصاب: علیه الفتوی، کذا فی المضمرات۔

(۱۷/۱، الباب الثالث فی المیاه، الفقه علی المذاهب الأربعة:۳۴/۱، کتاب الطهارة، مباحث الماء الطهور، دار الکتب العلمیة بیروت، الفتاوی التاتارخانیة:۹۲/۱، الفصل الرابع فی المیاه التی یجوز الوضوء بها والتی لا یجوز الوضوء بها، مکتبة دارالایمان سهارنفور)

(فتاوی محمودیه: ۱۲۸/۵، کراچی)

اوپر تک سکرول کریں۔