وضو کرتے وقت حوض میں پیرداخل کرنا

مسئلہ:

شریعت اسلامیہ نے نہ صرف پانی کو پاک رکھنے کا حکم دیا، بلکہ پانی کو آلودگی سے بچانے کی تاکید بھی فرمائی، لہذا پانی کو آلودگی سے بچانا بھی لازم ہے، بعض لوگ استنجاء خانوں میں بغیر چپل کے جاتے ہیں، اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو اپنے پیروں کو اس طرح دھوتے ہیں کہ کچھ پانی تو نالی میں گرتا ہے اور کچھ حوض میں، اور بعض حضرات پیروں کو حوض کے باہر دھونے کی زحمت نہ اٹھاتے ہوئے پیروں کو ہی حوض میں ڈال دیتے ہیں، جس سے پانی میں آلودگی آجاتی ہے، اور اگر آلودگی نہ بھی آئے تو کم ازکم اتنا تو ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا انسان اس حوض کے پانی سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں طبعی کراہت محسوس کرتا ہے، لہذا اس عمل سے اجتناب ضروری ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” صحیح البخاری “ : ”لا یبولنّ أحدکم فی الماء الدائم الذی لا یجری ثم یغتسل فیه“۔(ص:۶۷، کتاب الوضوء، باب الماء الدائم، رقم الحدیث:۲۳۹، بیروت)

ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن أبی هریرة أن النبی ﷺ قال : ” إذا استیقظ أحدکم من نومه فلایَغْمِسْ یَدَه فی الإناء حتی یغسلها ثلاثاً، فإنه لا یدری أین باتت یدُه “۔ (۱۳۶/۱، کتاب الطهارة، باب کراهیة غمس المتوضي الخ، فیصل پبلیکشنز دیوبند)

ما فی ” الصحیح لمسلم “ : حدثنا أبوهریرة عن محمد رسول الله ﷺ : ” لا تبل فی المائد الدائم الذی لا یجري ثم تغتسل منه “۔

(۱۳۸/۱، کتاب الطهارة، باب النهي عن البول في الماء الراکد، فیصل پبلیکشنز دیوبند)

ما فی ” الشامیة “ :کره بول وغائط فی ماء ولو جاریا فی الأصح، وفی البحر: أنها فی الراکد تحریمته، وفی الجاری تنزیهته، وفی الرد: نهی أن یبال فی الماء الراکد، ونهی أن یبال فی الماء الجاری، والمعنیٰ فیه أنه یقذره، وربما أدی إلی تنجیسه۔(۵۵۵/۱، کتاب الطهارة، مطلب القول مرجح علی الفعل)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : البول فی الماء الجاری مکروه، کذا فی الخلاصة، ویکره البول فی الماء الراکد، وهو المختار۔ (۲۵/۱، الفصل الثانی فیما لا یجوز به التوضوٴ)

ما فی ” شرح الوقایة “ : وإن أراد أن یحفر بئر بالوعة یمنع أیضاً لسرایة النجاسة إلی البئر۔ (۸۱/۱)

ما فی ” بدائع الصنائع “ : قال الکاسانی: أما تنجیس الطاهر فحرام، فکان هذا: ”لا یبولن أحدکم“ نهیاً عن تنجیس الماء الطاهر۔ (۲۰۹/۱)

(بیسواں فقهی سیمنار اسلامک فقه اکیڈمی انڈیا: ۲۰۱۱ء)

اوپر تک سکرول کریں۔